Pages

Sunday, 5 November 2017

دماغ کے لیے تباہ کن چند عام عادتیں

تحریر : حکیم محمد سلیمان خان

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ تنزلی کا شکار ہونے لگتا ہے، ہم چیزیں بھولنے لگتے ہیں اور معمے حل کرنا ماضی جیسا آسان کام نہیں رہتا۔ اگرچہ بڑھاپے کے عمل کو واپسی کا راستہ دکھانا تو ممکن نہیں، لیکن ہم اپنے ذہن کو ضرور ہر عمر کے مطابق فٹ رکھ سکتے ہیں۔

مگر کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو دماغ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں اور ذہنی تنزلی کی جانب سفر تیز ہوجاتا ہے۔

*۞رات گئے سونا یا کم نیند۞*
دماغ کے لیے تباہ کن عادات میں سے ایک نیند کی کمی یا رات گئے سونا ہے جو کہ ڈیمینشیا اور الزائمر جیسے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے، اگر رات کو 7 سے آٹھ گھنٹے کی نیند پوری نہ کی جائے تو یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بدقسمتی سے آج کل بیشتر افراد اس بری عادت کا شکار ہیں، ماہرین کے مطابق رات کو صحیح نیند نہیں آتی تو چائے یا کافی جیسے مشروبات سے گریز اور سونے سے کچھ دیر پہلے اسمارٹ فونز کا استعمال ترک کردینا چاہیے۔

*۞تنہا زیادہ وقت گزارنا۞*
انسان میل ملاقات کو پسند کرتے ہیں، فیس بک پر چاہے کتنے بھی زیادہ دوست ہوں مگر حقیقی زندگی میں کوئی دوست نہ ہونا دماغ کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق چند قریبی دوست زندگی کو خوش باش بنانے اور کریئر میں زیادہ بامقصد کام کرنے میں مدد دیتے ہیں، اسی طرح دماغی تنزلی اور الزائمر جیسے امراض کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

*۞جنک فوڈ کا زیادہ استعمال۞*
دماغ کے کچھ حصے سیکھنے، یاداشت اور دماغی صحت وغیرہ کے لیے ہوتے ہیں، ان کا حجم ایسے افراد میں بہت چھوٹا ہوتا ہے جو جنک فوڈ جیسے برگرز، فرنچ فرائز اور سافٹ ڈرنکس کے شوقین ہوتے ہیں، دوسری جانب بیریاں، اجناس، گریاں اور سبز پتوں والی سبزیاں دماغی افعال کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہونے والی غذائیں ہیں۔

*۞‌کانوں میں ہر وقت ہیڈ فون لگے رہنا۞*
جب کانوں کے پردے پر ہر وقت ہیڈ فونز کا شور سنائی دے تو سماعت متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، مگر معاملہ صرف کانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ دماغی مسائل جیسے الزائمر اور دماغی ٹشوز ختم ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ حسِ سماعت متاثر ہونے سے دماغ کو بات سمجھنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور باتیں یاداشت میں محفوظ نہیں ہوتیں، لہذا ہیڈ فونز ضرور لگائیں مگر ان کا والیوم 60 فیصد سے زیادہ نہ کریں اور ایک وقت میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک انہیں کانوں پر نہ لگائیں۔

*۞سست طرز زندگی۞*
آپ جتنا جسمانی سرگرمیوں سے دور ہوتے ہیں، اتنا ہی دماغی تنزلی کے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس کے علاوہ ذیابیطس، امراض قلب اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور یہ سب الزائمر سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ ہفتے میں تین بار کچھ منٹ کی تیز چہل قدمی بھی اس خطرے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

*۞‌تمباکو نوشی۞*
تمباکو نوشی کے نتیجے میں دماغ سکڑ جاتا ہے اور یہ کوئی اچھی چیز نہیں، اس کے نتیجے میں یاداشت بدترین ہوتی ہے اور دماغی امراض کا خطرہ دوگنا زیادہ بڑھا جاتا ہے، تمباکو نوشی کے دیگر نقصانات کے بارے میں بتانا ضروری نہیں جو دل کے امراض، ذیابیطس، فالج اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

*۞حد سے زیادہ کھانا۞*
اگر آپ بہت زیادہ کھانا کھاتے ہیں، چاہے وہ صحت کے لیے ضروری غذائیں ہی کیوں نہ ہوں تو آپ کا دماغ سوچنے اور یاد رکھنے کے لیے مضبوط نیٹ ورک کو تشکیل دینے کے قابل نہیں رہتا، حد سے زیادہ کھانا خطرناک حد تک جسمانی وزن بڑھا سکتا ہے جس کے نتیجے میں امراض قلب، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو آگے بڑھ کر دماغی مسائل کا باعث بنتے ہیں۔

*۞سورج سے دوری۞*
اگر آپ کے جسم کو مناسب مقدار میں قدرتی روشنی نہیں ملتی تو ڈپریشن کا خطرہ تو بڑھتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ دماغ کی رفتار بھی سست روی کا شکار ہوسکتی ہے، تحقیق کے مطابق سورج کی روشنی دماغ کو ٹھیک طرح کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔

Sunday, 13 August 2017

مولوی دا چن۔۔۔۔۔

لاجواب تحریر۔۔۔

لیبارٹری میں پروفیسر ہمیں مینڈک کے پھیپھڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ملا کی باری آئی۔
(قریباً ہر کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام ملا ہی پڑ جاتا ہے)
اور عادت کے مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔ اس پر ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور ناپسندیدگی کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔
“سر مجھے اجازت مل سکتی ہے؟ ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔” ملا نے سر اٹھا کر پروفیسر سے سوال کیا۔
“ہاں ہاں بالکل جاؤ بھئی۔ ویسے بھی یہاں تو تمہارے مطلب کی باتیں زیادہ ہوتی بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے تمہیں زیادہ تر وقت مسجد مدرسوں میں ہی گزارنا چاہیے۔ تم اسی قابل ہو۔” پروفیسر صاحب الفاظ میں جتنے نشتر چھپا کر چلا سکتے تھے چلا دیے۔
ملا نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور لیب سے باہر نکل گیا۔
“دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور یہ ملا آج بھی زمین پر ٹکرنے مارنے میں مصروف ہے۔” پروفیسر باآوازِ بلند بڑبڑائے۔
کلاس میں سارے ہی مسلمان تھے مگر ‘نمبر’ پروفیسر صاحب کے ہاتھ میں تھے اس لیے بعض لڑکے لڑکیاں خاموش رہے اور باقیوں نے مسکرا کر یا ہنس کر پروفیسر صاحب کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ سر کی بدقسمتی کہ کلاس میں مجھ جیسا بد زبان بھی موجود تھا جسے اگر ملا کی کوئی خاص پروا نہیں تھی تو ‘نمبروں’ کی تو بالکل بھی نہیں تھی۔
“سر ۔ ۔ ۔ آپ کتنی بار چاند پر جا چکے ہیں؟” میں نے معصومیت سے پوچھا۔
“کیا مطلب؟” پروفیسر ایک جھٹکے سے سیدھے ہو گئے۔
“مطلب سر آپ کو تو زمین پر ٹکریں مارتے کبھی نہیں دیکھا اور آپ نے جو ابھی ابھی ملا کی چاند پر نہ جا سکنے کی وجہ بتائی ہے اس اعتبار سے تو آپ کئی بار چاند کی سیر کر کے آ چکے ہونگے۔ پلیز بتائیں نا کیسا ہوتا ہے چاند اور کیا واقعی چاند پر پریاں رہتی ہیں؟” میں بولنا شروع ہوا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔
جب پروفیسر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں غصے کے مارے ابل کر باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ رہی تھیں۔
“شٹ اپ۔ یو بلڈی سٹوپڈ۔ میں بیالوجسٹ ہوں۔ میرا کام چاند پر جانا نہیں ہے!!!” پروفیسر چلائے۔
“اوہ ہ ۔ ۔ ۔ تو آپ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا ہے کہ ملا خلاء باز ہے اور بیالوجی پڑھنے شوقیہ آتا ہے!” چڑے ہوئے کو مزید چڑانا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، ویسے بھی اب تو سر نے مجھے شٹ اپ اور سٹوپڈ جیسے سخت الفاظ کہ کر باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔
“اگر خود نہیں ہے تو دوسروں کو بھی نہیں بننے دینا اس نے اور اس کی قبیل نے۔ یہ ملے مسجدوں میں بیٹھ کر لوگوں کو لوٹے سے وضو کرنا سکھاتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ راکٹ بناؤ مشینیں بناؤ۔” پروفیسر نے مٹھیاں بھینچ کر بے ربط اور نا مکمل سا جواب دیا۔
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مینڈک کے بجائے میرے ٹکڑے کر کے خورد بین کے نیچے ڈال دیں۔

“سر معاف کیجیے گا۔ مگر امریکہ کے چرچ میں بیٹھا پادری بھی لوگوں کو مشینیں بنانے کا نہیں کہتا۔ وہ بھی لوگوں کا بپتسمہ ہی کرتا ہے، لہک لہک کر آرکیسٹرا کے ساتھ عبادات کرتا ہے اور ‘مقدس روح’ کے ساتھ باتیں کر کے لوگوں کے مسئلے حل کرتا ہے۔ مگر وہاں کا کوئی دانشور کوئی سائنس دان یہ کہتا ہوا نہیں نظر آتا کہ پادری ابھی تک لوگوں کو مقدس دعائیں یاد کرواتا ہے۔ کیونکہ وہاں ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اپنی اپنی ناکامی اور نا اہلی کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں کا سائنسدان چاند پر نہیں پہنچ سکا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ملا نے اس کا پائنچہ پکڑ رکھا ہے بلکہ وجہ اس کی اپنی نااہلی ہے۔ جب تک ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان پر محنت کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام لگاتا رہے گا، ہم زمین پر ہی رہینگے’ ہمارا چاند کبھی نہیں چڑھے گا۔۔۔۔”

میں نے لیکچر ختم کیا تو سر شعلے برساتی آنکھوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ لیب میں بھی مکمل سناٹا تھا۔ ذرا سی نظریں گھمائیں تو محسوس ہوا ہر کوئی ہی مجھے گھور رہا ہے۔ میرے پسینے چھوٹ گئے۔
“سر میں بھی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔” میں نے ‘بہانہ’ بنا کر بیگ اٹھایا اور جو دوڑ لگائی تو سیدھا کینٹین آ کر رکا۔
بات پرانی ہو ئی۔ امتحانات ہوئے۔ نتائج لگے۔ پوری کلاس اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی۔ جشن کا سماں تھا۔ حتی کہ ملا بھی اپنے ساٹھ نمبر لے کر پاس ہونے پر الحمداللہ کا ورد کر کے جھوم رہا تھا۔ خوشی کے مارے سب ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔
صرف میں اکیلا تھا جو چاند پر اڑ رہا تھا۔
اور کیوں نہ اڑتا۔ میرے پیپر میں جو آج چاند نکلا تھا۔ چودھویں کا۔۔۔مگر کچھ بیضوی سا۔۔۔ کمبختوں نے چاند پر جا جا کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا ۔

Tuesday, 11 July 2017

آپ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟

یہ سوال میری لائف کا بہت مشکل سوال ثابت ہوا ،
فرض ہے ؟ ،
شکر ادا کرنے کے لئے ؟
خدا ہے ہی اس قابل ؟
جہنم کے خوف سے ؟ یہ وہ جواب ہیں جو مجھے اس کے جواب میں ملتے ،
ایک ٹائم تھا جب میں نماز جہنم کے خوف سے پڑھتے تھے ،
جہنم کا خوف مجھے اٹھا کے نماز کے لئے جا کھڑا کرتا تھا ،
پر مجھے وہ نماز فرض کی ادائیگی کبھی بھی نہ لگ سکی ،
پھر مجھ سے نماز نہ تو آرام سے پڑھی جاتی تھی ، اور نہ یکسوئی سے ،
پھر خوف بھی کم ہوتا گیا ،
پھر جنّت کا بیان پڑھا تو اس کو پا لینے کی چاہ جاگی ،
میں پھر سے نماز پڑھنے لگا ،
مگر یہ بھی چند دن ہی رہی کیفیت ،
اپنے ابّا جی سے کہا تو بولے ،
بیٹا اس نے دنیا کی ھر نعمت سے نوازا ہے تم اس رشتوں شکر ادا کرنے کے لئے پڑھا کرو ،
ذہن میں یہ رکھ کی بھی نماز پڑھ لی ،،
دل کی حالت اب بھی وہی تھی ،،
پھر ایک دن بہت عجیب بات ہوئی ،
میں جائے نماز پے کھڑا ، اور مجھے نماز بھول گئی ،
بہت یاد کرنے کی کوشش کی ،
بھلا نماز ہم کیسےبھول سکتےہیں ؟
مجھے خود پے بہت رونا آیا ،
اور میں وہیں بیٹھ کے رونے لگا ،
تو مجھے لگا کوئی تسلی دینے والا ہاتھ ہے میرے سر پے ،،جیسے بچہ رو رہا ہو توہم سر پے ہاتھ رکھکے دلاسا دیتے ہیں ،
مجھے لگا کوئی پوچھ رہا ہے ، کے کیا ہوا ، میں نے کہا نماز بھول چکا ہوں ،،
تو جیسے پوچھا گیا ،،، تو ؟
میں حیران پریشان ،، اس تو کا جواب تو مرے پاس بھی نہیں تھا شائد ،،
پھر لگا کوئی مسکرا یا ہو ،، اور کہا ہو ،
نماز کیوں پڑھتے ہو ، ؟
خوف سے ؟
پر وہ تو غفور ہے ، رحیم ہے ، پھر خوف کیسا ؟
جنّت کے واسطے ؟ پر وہ تو درگزر فرماتا ہے ،،
شکر ادا کرنا ہے ؟ اسےضرورت نہیں ،،،،
فرض ہے؟ تو زمین پے سر ٹکرانے کو نماز نہیں کہا جاتا ،
وہ اس قابل ہے ؟ تم کیا جانو وہ کس قابل ہے ،،،،
میرے پاس الفاظ ختم، میں بس اس آواز میں گم ،،،،،
وہ جو ہے نہ ،،،
وہ تم سے کلام چاہتا ہے ،
تم اسی کو دوست مانو ، اسی سے مشورہ کرو ،
اسی کو داستان سناؤ ،،،
جیسے اپنے دوست کو سناتے ہو ، دل کی بیقراری کم ہوگی ،
پھر نماز میں سکون ملے گا ،،،،،
میری آنکھ کھلی تو میں وہیں پے تھا ، وہ یقیناً خواب تھا ،
میں دوبارہ سے وضو کر کے کھڑا ہوا ،
نماز خود بخود ادا ہوتی چلی گئی ،،،،،
دل میں سکون آتا چلا گیا ،
مگر میرا دل سجدے سے سر اٹھانے کو نہ کرے ، مجھے لگا میرے پاس ہے وہ ، مجھ سے بات کر رہا ہے ،
پھر اپنے دل کی ساری باتیں ہوتی چلی گیئں ،،
گرہیں کھلتی گیئں ،
سکون ملتا گیا ،،،
آسانیاں ہوتی گیئں ،،،
پھر آنکھ اذان سے پہلے اٹھتی ،
محبوب سے ملاقات کا انتظار رہنے لگا ،
فرض کے ساتھ نفلی نمازیں بھی ادا ہوتی گیئں ،
اللّه کا کرم ہو گیا۔

🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿

Contact Form

Name

Email *

Message *