Pages

Showing posts with label طنز و مزاح. Show all posts
Showing posts with label طنز و مزاح. Show all posts

Sunday, 13 August 2017

مولوی دا چن۔۔۔۔۔

لاجواب تحریر۔۔۔

لیبارٹری میں پروفیسر ہمیں مینڈک کے پھیپھڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ملا کی باری آئی۔
(قریباً ہر کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام ملا ہی پڑ جاتا ہے)
اور عادت کے مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔ اس پر ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور ناپسندیدگی کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔
“سر مجھے اجازت مل سکتی ہے؟ ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔” ملا نے سر اٹھا کر پروفیسر سے سوال کیا۔
“ہاں ہاں بالکل جاؤ بھئی۔ ویسے بھی یہاں تو تمہارے مطلب کی باتیں زیادہ ہوتی بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے تمہیں زیادہ تر وقت مسجد مدرسوں میں ہی گزارنا چاہیے۔ تم اسی قابل ہو۔” پروفیسر صاحب الفاظ میں جتنے نشتر چھپا کر چلا سکتے تھے چلا دیے۔
ملا نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور لیب سے باہر نکل گیا۔
“دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور یہ ملا آج بھی زمین پر ٹکرنے مارنے میں مصروف ہے۔” پروفیسر باآوازِ بلند بڑبڑائے۔
کلاس میں سارے ہی مسلمان تھے مگر ‘نمبر’ پروفیسر صاحب کے ہاتھ میں تھے اس لیے بعض لڑکے لڑکیاں خاموش رہے اور باقیوں نے مسکرا کر یا ہنس کر پروفیسر صاحب کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ سر کی بدقسمتی کہ کلاس میں مجھ جیسا بد زبان بھی موجود تھا جسے اگر ملا کی کوئی خاص پروا نہیں تھی تو ‘نمبروں’ کی تو بالکل بھی نہیں تھی۔
“سر ۔ ۔ ۔ آپ کتنی بار چاند پر جا چکے ہیں؟” میں نے معصومیت سے پوچھا۔
“کیا مطلب؟” پروفیسر ایک جھٹکے سے سیدھے ہو گئے۔
“مطلب سر آپ کو تو زمین پر ٹکریں مارتے کبھی نہیں دیکھا اور آپ نے جو ابھی ابھی ملا کی چاند پر نہ جا سکنے کی وجہ بتائی ہے اس اعتبار سے تو آپ کئی بار چاند کی سیر کر کے آ چکے ہونگے۔ پلیز بتائیں نا کیسا ہوتا ہے چاند اور کیا واقعی چاند پر پریاں رہتی ہیں؟” میں بولنا شروع ہوا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔
جب پروفیسر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں غصے کے مارے ابل کر باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ رہی تھیں۔
“شٹ اپ۔ یو بلڈی سٹوپڈ۔ میں بیالوجسٹ ہوں۔ میرا کام چاند پر جانا نہیں ہے!!!” پروفیسر چلائے۔
“اوہ ہ ۔ ۔ ۔ تو آپ کو شاید کسی نے یہ بتا دیا ہے کہ ملا خلاء باز ہے اور بیالوجی پڑھنے شوقیہ آتا ہے!” چڑے ہوئے کو مزید چڑانا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، ویسے بھی اب تو سر نے مجھے شٹ اپ اور سٹوپڈ جیسے سخت الفاظ کہ کر باقاعدہ اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔
“اگر خود نہیں ہے تو دوسروں کو بھی نہیں بننے دینا اس نے اور اس کی قبیل نے۔ یہ ملے مسجدوں میں بیٹھ کر لوگوں کو لوٹے سے وضو کرنا سکھاتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ راکٹ بناؤ مشینیں بناؤ۔” پروفیسر نے مٹھیاں بھینچ کر بے ربط اور نا مکمل سا جواب دیا۔
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مینڈک کے بجائے میرے ٹکڑے کر کے خورد بین کے نیچے ڈال دیں۔

“سر معاف کیجیے گا۔ مگر امریکہ کے چرچ میں بیٹھا پادری بھی لوگوں کو مشینیں بنانے کا نہیں کہتا۔ وہ بھی لوگوں کا بپتسمہ ہی کرتا ہے، لہک لہک کر آرکیسٹرا کے ساتھ عبادات کرتا ہے اور ‘مقدس روح’ کے ساتھ باتیں کر کے لوگوں کے مسئلے حل کرتا ہے۔ مگر وہاں کا کوئی دانشور کوئی سائنس دان یہ کہتا ہوا نہیں نظر آتا کہ پادری ابھی تک لوگوں کو مقدس دعائیں یاد کرواتا ہے۔ کیونکہ وہاں ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اپنی اپنی ناکامی اور نا اہلی کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں کا سائنسدان چاند پر نہیں پہنچ سکا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ملا نے اس کا پائنچہ پکڑ رکھا ہے بلکہ وجہ اس کی اپنی نااہلی ہے۔ جب تک ہم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان پر محنت کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام لگاتا رہے گا، ہم زمین پر ہی رہینگے’ ہمارا چاند کبھی نہیں چڑھے گا۔۔۔۔”

میں نے لیکچر ختم کیا تو سر شعلے برساتی آنکھوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ لیب میں بھی مکمل سناٹا تھا۔ ذرا سی نظریں گھمائیں تو محسوس ہوا ہر کوئی ہی مجھے گھور رہا ہے۔ میرے پسینے چھوٹ گئے۔
“سر میں بھی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔” میں نے ‘بہانہ’ بنا کر بیگ اٹھایا اور جو دوڑ لگائی تو سیدھا کینٹین آ کر رکا۔
بات پرانی ہو ئی۔ امتحانات ہوئے۔ نتائج لگے۔ پوری کلاس اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی۔ جشن کا سماں تھا۔ حتی کہ ملا بھی اپنے ساٹھ نمبر لے کر پاس ہونے پر الحمداللہ کا ورد کر کے جھوم رہا تھا۔ خوشی کے مارے سب ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔
صرف میں اکیلا تھا جو چاند پر اڑ رہا تھا۔
اور کیوں نہ اڑتا۔ میرے پیپر میں جو آج چاند نکلا تھا۔ چودھویں کا۔۔۔مگر کچھ بیضوی سا۔۔۔ کمبختوں نے چاند پر جا جا کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا ۔

Monday, 16 January 2017

شرعی نظر

ایک عرب نوجوان کہتا ہے کہ میں ایک جگہ اپنے رشتے کیلئے لڑکی پر شرعی نظر ڈالنے کیلئے گیا۔ میں بیٹھک میں لڑکی کے باپ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ نقاب پہنے ہوئے ایک پردے دار لڑکی اندر آئی، لمحہ بھر کیلئے مجھے بغور دیکھا اور کچھ کہے بغیر واپس چلی گئی۔

میں نے لڑکی کے باپ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا: اس نے تو نقاب نہیں ہٹایا اور نا ہی میں نے کچھ دیکھا ہے۔

لڑکی کے باپ نے کہا: بیٹے، اس نے مجھے کہا تھا کہ اگر مجھے لڑکا پسند نہیں آیا تو میں نے نقاب نہیں ہٹاؤں گی ۔

نتیجہ:
نوجوان سمجھتا تھا شریعت نے یہ رعایت بس اُسی کیلئے رکھ چھوڑی ہے۔

Saturday, 14 January 2017

ضرورت رشتہ

ا(کچھ دن پہلے ایک دلچسپ اشتہار دیکھنے کا اتفاق ہوا، اس سے تحریک پا کر ایک لمبا چوڑا اشتہار لکھ ڈالا)

ایک نو عمر سید زادہ،نیک چلن اور سیدھاسادہ، کامل شرافت کا لبادہ، کبھی بس پہ کبھی پیادہ، طبعیت کا انتہائی سادہ، لمبا کم اور پست زیادہ، کاروبار کرنے کا ارادہ، اپنی ماں کا شہزادہ، حُسن کا دلدادہ، شادی پر آمادہ،
خوبصورت جوان ،اعلی خاندان، اپنا ذاتی مکان ، رہائش فی الحال پاکستان ،ابھی پاس کیا ایم اے کا امتحان ، کبھی نادان کبھی شیطان ، ایک دفعہ ہوا یرقان ، کافی بار کروایا چالان، عرصہ سے پریشان کے لئے ،

ایک حسینہ مثلِ حور،چشم مخمور،چہرہ پُر نور،باتمیز باشعور، سلیقے سے معمور، نزاکت سے بھرپور، پردے میں مستور، خوش اخلاقی میں مشہور
باہنر سلیقہ مند،صوم و صلوۃ کی پابند، کسی کو نہ پہنچائے گزند، نہ کوئی بھابھی نہ کوئی نند، ستاروں پہ نہ سہی چھت پہ ڈالے کمند، صاف کرے گھر کا گند
باادب باحیاء، پیکرِ صدق و صفا، اک مثالِ وفا، سب کی لے دعا، نہ ہو کسی سے خفا، نہ کرے کسی کا گلا ،
نہ شائق سُرخی وکریم ،اعلی تربیت و تعلیم، سیرت و کردار میں عظیم، نرم خوئی میں شبنم و شمیم، سوچ میں قدیم، علالت میں حکیم
کوئی مہ جبین ،بے حد حسین،پردہ نشین، ذہین و فطین، بہن بھائیوں میں بہترین، پکانے کی شوقین، میٹھا بھی اور نمکین ، ساتھ لائے قالین ، سسرال کی کرے تحسین، شوہر جب ہو غمگین تو کرے حوصلے کی تلقین ، ساس کے سامنے مسکین، لفظ منہ سے نہ نکالے سنگین ، گھر کی کرے آرائش و تزئین، ہر بات پہ کہے آمین، یوں رہے جیسے اسرائیل کے سامنے فلسطین،
بقید حد، دراز قد، مصروف ید، حکم نہ کرے رد،
آہستہ خرام، شائستہ کلام،پیارا سا نام، مٹھاس جیسے چونسہ آم، رفتار جیسے تیز گام، شوہر کی غلام، زبان پر لگام، بات میں نہ کوئی ابہام، زبان پر نہ کوئی دشنام، امن و آشتی کا پیغام، خاندان میں لائے استحکام، جانتی ہو ہر کام، کبھی نہ ہو زکام،سب کا کرے احترام، ساس سے نہ لے انتقام، شوہر پر ہوں جو آلام، جلد بازی میں نہ کرے اقدام، مچائے نہ کوئی کہرام،
عجوبۂ کائنات، مصائب میں ثبات، عاریٔ جذبات ، ہمہ وقت محوِ خدمات ، نہ کرے سوالات، تمام دے مگر جوابات، اعلی و ارفع صفات، رفیقۂ حیات، صابرِ ممات

درکار ہے، لڑکا ہمارا افتخار ہے، لیکن کچھ بے قرار ہے،رابطے کا آپ کو اختیار ہے، اگر آپ کو اعتبار ہے، جلدجواب پر ہمیں اصرار ہے، ورنہ زندگی بےکار ہے،گرائیے جو رستے میں دیوار ہے، اب تو بس ہاں کا انتظار ہے۔

مسہری یا چارپائی،روئی بھری رضائی، قلم کے لیے روشنائی ، شوہر کے لیے ٹائی، چند زیور طلائی،نکاح سے پہلے رسمِ حنائی، منگنی پرمٹھائی، نکاح پر فائرنگ ہوائی ، بارات کے لیے دودھ ملائی، تھوڑی سی خود نمائی، تاکہ نہ ہو جگ ہنسائی، بعد میں نہ ہو لڑائی
شکوک سے پرہیز، بیاہ کے لیے بھاگو تیز،ابھی مٹی ہے زرخیز، کچھ کرسیاں اور میز،بس اس قدر جہیز،ہماری قوم نہ انگریز نہ چنگیز

لڑکی آپکی بھی کنواری ہے، شادی نہ ہوئی تو ہماری بھی خواری ہے، بتائیں اگر کوئی دشواری ہے، ہماری تو پوری تیاری ہے، ہاں کرنا آپ کی رواداری ہے۔

لڑکا گو اناڑی ہے، مگر کاروباری ہے۔
ایک چھوٹی سی دوکان اور منہ میں زبان اور کبھی کبھی پان رکھتا ہے۔

مزید بات چیت بلمشافہ ،یا بذریعہ لفافہ، بصورت ازیں چڑیا گھر میں دیکھیں زرافہ،
خط و کتابت بوعدہ صیغۂ راز ہے۔دوستو یہ آرزو دل کی آواز ہے۔

مکان نمبر: چار سو بیس
گلی نمبر : نو،دو،گیارہ
حیران چوک پریشان منزل
شہرِ غریباں، ملکِ عدم

Thursday, 12 January 2017

مزیدار خط

(استانی جی کا اپنے منگیتر کو جوابی خط)

😂😂😂😂😁
مائی ڈئیر تاج الدین،

سلامِ محٌبت،

تمھارا اِملا کی غلطیوں سے بھرپور مراسلہ مِلا، جسے تم بدقسمتی سے "محٌبت نامہ" کہتے ہو ۔
کوئی مسٌرت نہیں ہوئی ۔
یہ خط بھی تمھارا پچھلے خطوط کی طرح بےترتیب اور بےڈھنگا تھا۔
اگر خود صحیح نہیں لکھ سکتے تو کسی سے لِکھوا لیا کرو۔
خط سے آدھی ملاقات ہوتی ہے اور تم سے یہ آدھی ملاقات بھی اِس قدر دردناک ہوتی ہے کہ بس!
اور ہاں.... یہ جو تم نے میری شان میں قصیدہ لِکھا ہے ،
یہ دراصل قصیدہ نہیں بلکہ ایک فلمی گانا ہے اور تمھارے
شاید عِلم میں نہیں کہ فِلم میں یہ گانا ہیرو اپنی ماں کے لئے گاتا ہے ۔
اور سُنو! پان کم کھایا کرو۔
خط میں جگہ جگہ پان کے دھبے صاف نظر آتے ھیں۔
اگر پان نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم خط لکھتے وقت تو ھاتھ دھوکے بیٹھا کرو۔
اور یہ جو تم نے ملاقات کی خواھِش کا اظِہار انتہائی اِحمقانہ انداز میں کیا ھے۔
یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی یتیم بچہ اپنی ظالِم سوتیلی ماں سے ٹوفی کی فرمائش کر رھا ھو، اس یقین کہ ساتھ کہ وہ اِسے نہیں دےگی۔
ایک بات تم سے اور کہنی تھی کہ کم از کم اپنا نام تو صحیح لکھا کرو۔
یہ "تاجو" کیا ھوتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی قصائی یا دودھ والے کا نام ھو۔
مخفٌف لِکھنا ھی ہے تو صِرف "تاج" لِکھدو۔
آئندہ خط احتیاط سے لِکھنا۔
اُس میں کوئی غلطی نہیں ھونی چاہیے۔
آخر میں تم نے جو شعر لِکھا ہے.. وہ تو اب رکشہ والوں نے بھی لکھنا چھوڑ دیا ہے
"اوہ مائی گاڈ"
مجھے ڈر ہے کہ تم سے عشق کا یہ سلسلہ میری اردو خراب نہ کر دے
بس یہی کہنا تھا۔
فقط
تمھاری بانو 😂

Saturday, 31 December 2016

آزاد خیال بیوی !

ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ . ﺑﯿﮕﻢ ﮐﭽﮫ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﮔﮭﻤﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ .
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺁﯾﺎ
" ﯾﮧ ﺍﺗﻨﮯ  ﺧﺸﻮﻉ ﻭ ﺧﻀﻮﻉ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ پاک ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ؟ "
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ . ﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ "
ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﻧﮑﻼ :
" ﺳﭽﯽ؟ "
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﻣﭽﯽ "
ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺎﻟﯿﺴﯿﺎﮞ ﮐﭽﮫ ﮈﮬﯿﻠﯽ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﯾﮟ ﮔﯽ . ﮐﭽﮫ ﺁﺫﺍﺩ ﺧﯿﺎﻝ / ﻟﺒﺮﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ "
ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
" ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟ "
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺣﻮﺭﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﯿﮟ ۔ ﻓﺮﺽ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﮔﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻮﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﺩﺑﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺮ ﺩﺑﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ . ﺗﻮ ﺁﭖ ﻣﺎﺋﻨﮉ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ۔ ﺍﯾﮏ ﺁﺫﺍﺩ ﺧﯿﺎﻝ / ﻟﺒﺮﻝ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮨﻨﺎ "
ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﮔﻼ ﻧﮧ ﺩﺑﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺍﺱ ﺣﻮﺭ ﮐﺎ "
ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﺼﺮﻉ ﻧﮑﻼ :

" ﺗﯿﺮﮮ ﺁﺯﺍﺩ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ۔ ﻧﮧ ﻭﮦ ﺩنيا " ‪

آج بیوی سے ڈرنے والوں کا عالمی دن ھے ، ایسے مظلوم شوھر جو آپ کے علم میں ھوں، ان سے اظہار ھمدردی کے لئے  یہ میسج انھیں ضرور سینڈ کرین، اللہ انکو  ھمت حوصلہ اور صبر کرنے کی توفیق عطافرماۓ. مجھے تو آپ کاپتا تھا اس لے آپ تک پہنچادیا.

Contact Form

Name

Email *

Message *