Pages

Showing posts with label شاعری. Show all posts
Showing posts with label شاعری. Show all posts

Friday, 27 January 2017

سلام اس پر


------------------------------
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اس پرکہ اسرار محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
سلام اس پر کہ دشمن کو حیات جاوداں دے دی
سلام اس پر، ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی
سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں
سلام اس پر، ہوا مجروح جو بازار طائف میں
سلام اس پر، وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے
سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے
سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا
سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا
سلام اس پر، جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا
سلام اس پر، جو امت کے لئے راتوں کو روتا تھا
سلام اس پر، جو فرش خاک پر جاڑے میں سوتا تھا
سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے
سلام اس پر کہ جس کی ذات فخر آدمیت ہے
سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی
سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی
سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہ دی
سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی
سلام اس پر، شکستیں جس نے دیں باطل کی فوجوں کو
سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی
سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا
سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا
سلام اس پر کہ جس کا نام لیکر اس کے شیدائی
الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت، اوج دارائی
سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھادیتے ہیں ٹکڑا، سرفروشی کے فسانے میں
سلام اس ذات پر، جس کے پریشاں حال دیوانے
سناسکتے ہیں

مولانا الیاس گھمن صاحب

محفل شعر و ادب گروپ

7⃣0⃣4⃣0⃣5⃣0⃣5⃣9⃣🔟
[27/06 9:54 pm] ‪+91 70405 05910‬: الٰہی محبوبِ کل جہاں کو دل و جگر کا سلام پہنچے
نفس نفس کا درود پہنچے، نظر نظر کا سلام پہنچے
بساط عالم کی وسعتوں سے، جہان بالا کی رفعتوں سے
ملک ملک کا درود اترے، بشر بشر کا سلام پہنچے
زبانِ فطرت ہے اس پہ ناطق، ببارگاہ نبی صادق
شجر شجر کا درود جائے، حجر حجر کا سلام پہنچے
رسول رحمت کا بار احساں، تمام خلقت کے دوش پر ہے
تو ایسے محسن کو بستی بستی، نگر نگر کا سلام پہنچے
مرا قلم بھی ہے ان کا صدقہ، مرے ہنر پر ہے ان کا سایہ
حضور خواجہ ، مرے قلم کا ، مرے ہنر کا سلام پہنچے
یہ التجا ہے کہ روز محشر، گنہگاروں پہ بھی نظر ہو
شفیع امت کو ہم غریبوں کی چشم تر کا سلام پہنچے
نفیس کی بس دعا یہی ہے، فقیر کی اب صدا یہی ہے
سواد طیبہ میں رہنے والوں کو عمر بھر کا سلام پہنچے
(سید نفیس الحسینی رحمتہ اللہ علیہ)

مَحفلِ حَمدونَعت گروپ

+971508224083

+917040505910

Thursday, 26 January 2017

وہ اتنے نازک

رُکو تو تم کو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں
کلی اَکیلے اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کہا طبیب نے ، گر رَنگ گورا رَکھنا ہے
تو چاندنی سے بچائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ نیند کے لیے شبنم کی قرص بھی صاحب
کلی سے پوچھ کے کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بدن کو دیکھ لیں بادَل تو غسل ہو جائے
دَھنک سے خشک کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہَوائی بوسہ دِیا پھول نے ، بنا ڈِمپل
اُجالے ، جسم دَبائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جلا کے ’’شمع‘‘ وُہ جب ’’غُسلِ آفتاب‘‘ کریں
کریم رُخ پہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دو قدم چلیں پانی پہ ، دیکھ کر چھالے
گھٹائیں گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ بادَلوں پہ کمر ’’سیدھی‘‘ رَکھنے کو سوئیں
کرن کا تکیہ بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو ایک دانے پہ چاوَل کے لکھتے ہیں ناوَل
سنگھار اُن سے کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سیاہی شب کی ہے چشمِ غزال کو سُرمہ
حیا کا غازہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

لگائیں خوشبو تو ہو جاتا ہے وَزَن دُگنا
قدم گھسیٹ نہ پائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سنا ہے پنکھڑی سے رات کان میں پوچھا
یہ جلد کیسے بچائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گلے میں شبنمی مالا ، کلائی پر تتلی
ہنسی لبوں پہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو اُن کے سائے کے پاؤں پہ پاؤں آ جائے
تو ڈاکٹر کو دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

متاعِ ناز کے ناخن تراشنے ہوں اَگر
کلوروفام سنگھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو پوچھا دُنیا کی نازُک ترین شے کیا ہے
تو ہنس کے سر کو جھکائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

لباس پنکھڑی کی اِک پَرَت سے بن جائے
کلی سے جوتے بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شمیض کی جگہ عرقِ گلاب پہنا ہے
پھر اُس پہ دُھند لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

قمیض کے لیے شبنم میں پنکھڑی دُھو کر
بدن پہ رَکھ کے دَبائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

لباس اُتاریں جو کلیوں کا وُہ بنے فیشن
گلاب دام چکائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پراندہ ، چُوڑیاں ، جھمکے ، اَنگوٹھی ، ہار ، گھڑی
اِنہیں تو بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ زیورات کی تصویر ساتھ رَکھتے ہیں
یا گھر بلا کے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی سا جسم وُہ تنہا سنبھالتے ہیں مگر
کنیزیں زُلفیں اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ خوشبو اَوڑھ کے نکلے ہیں اور ضد یہ ہے
لباس سب کو دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

حجاب نظروں کا ہوتا ہے سو وُہ ساحل پر
سیاہ چشمہ چڑھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو جھوٹ بولنے میں اَوّل آیا اُس نے کہا
وُہ تین روٹیاں کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تین شبنمی بوندیں ، گُلاب میں دَھر کر
کرن پہ کھانا پکائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گول گپا بھی کچھ فاصلے سے دیکھتے ہیں
کہ اِس میں گر ہی نہ جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُتار دیتے ہیں بالائی ، سادہ پانی کی
پھر اُس میں پانی ملائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گلاس پانی کا پورا اُنہیں پلانا ہو
نمی ہَوا میں بڑھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کنیز توڑ کے بادام لائی تو بولے
گِری بھی پیس کے لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ آم چوسنا بھنورے سے گھر پہ سیکھتے ہیں
گُل اُن کو رَقص پڑھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو غنچہ سونگھ لیں خوشبو سے پیٹ اِتنا بھرے
کہ کھانا سونگھ نہ پائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ اَپنی روٹی گلابوں میں بانٹ دیتے ہیں
کلی کو دُودھ پلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شراب پینا کجا ، نام جام کا سن لیں
تو جھوم جھوم سے جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کباب پنکھڑی کے اُن کی من پسند غذا
ملائی چھیل کے کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو نبضِ ناز کی جنبش کو کر گیا محسوس
طبیب اُس کو بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو ’’نیم ٹھوس‘‘ غذا کھانے کو حکیم کہے
ہَوا بہار کی کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

زُکام ہو گیا دیکھی جو برف کی تصویر
اَب اُن کو یخنی دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

دَوا پلا کے قریب اُن کے بھیجے دو مچھر
کہ اُن کو ٹیکہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بہت تلاش کی مچھر نے سُوئی گھونپنے کی
رَہا یا دائیں یا بائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شفا کو اُن کی قریب اُن کے لیٹ کر ٹیکہ
طبیب خود کو لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

’’خیالی کھچڑی‘‘ کو نسخے میں لکھ کے بولا طبیب
اَنار خواب میں کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

دَوا کو کھانا نہیں تین بار سوچنا ہے
طبیب پھر سے بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اَبھی تو ٹیک لگائے بغیر بیٹھے تھے
وَزیر قسمیں اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سانس لیتے ہیں تو اُس سے سانس چڑھتا ہے
سو رَقص کیسے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

نزاکت ایسی کہ جگنو سے ہاتھ جل جائے
جلے پہ اَبر لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تین روٹیوں کا آٹا گوندھ لیں جس دِن
تو گھر میں جشن منائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دَھڑکنوں کی دَھمک سے لرزنے لگتے ہیں
گلے سے کیسے لگائیں وہ اتنے نازک ہیں

Wednesday, 25 January 2017

اردو کے ساتھ زیادتی

سنو یہ فخر سے اک راز بھی ہم فاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ بھی دھوتے تھے، مگر اب "واش" کرتے ہیں..

تھا بچوں کے لیے بوسہ مگر اب "کِس" ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب "مِس" ہی کرتے ہیں..

چہل قدمی کبھی کرتے تھے اور اب "واک" کرتے ہیں
کبھی کرتے تھے ہم باتیں مگر اب "ٹاک" کرتے ہیں..

کبھی جو امی ابو تھے، وہی اب "مما پاپا" ھیں
دعائیں جو کبھی دیتے تھے وہ بڈھے سیاپا ہیں..

کبھی جو تھا غسل خانہ، بنا وہ "باتھ روم" آخر
بڑھا جو اور اک درجہ، بنا وہ "واش روم" آخر..

کبھی ہم بھی تھے کرتے غسل، "شاور" اب تو لیتے ہیں
کبھی جو پھول چُنتے تھے، "فلاور" اب تو لیتے ہیں

کبھی تو درد ہوتا تھا، مگر اب "پین" ہوتا ہے
پڑھائی کی جگہ پر اب تو "نالج گین" ہوتا ہے..

"ڈنر" اور "لنچ" ہوتا ہے، کبھی کھانا بھی کھاتے تھے
"بریڈ" پر ہے گزارا اب، کبھی کھابے اُڑاتے تھے..

کبھی ناراض ہوتے تھے، مگر اب "مائنڈ" کرتے ہیں
جو مسئلہ کچھ اُلجھ جائے، "سلوشن فائنڈ" کرتے ہیں..

جگہ صدمے کی یارو اب تو "ٹینشن، شاک" لیتے ہیں
کہ "بُوہا" "شٹ" جو کرتے ہیں تو اس کو "لاک" دیتے ہیں..

ہوئے ’’آزاد‘‘جب ہم تو ’’ترقی‘‘ کر گئے آخر
جو پینڈو ذہن والے تھے، وہ سارے  گئے آخر.

Sunday, 22 January 2017

ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔

1853ء میں قلعہ معلٰے میں ایک مشاعرہ ہوا تھا
مصرح طرح تھا؎

کوئی دشمن نہیں ہے اپنا دشمن آپ ہم نکلے

اس طرح میں غالبؔ کی غزل بہت مشہور ہے؎

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

داغؔ کے پاس مصرع اس رات پہنچا تھا جس رات کو مشاعرہ تھا ۔ چنانچہ انہوں نے غزل کہہ کر دیوان خاص ہی میں استاد ذوقؔ کو دکھائی۔ انہوں نے کہا خاصے شعر ہیں۔ اتنے میں بقولِ داغؔ بادشاہ تشریف لے آئےاور مشاعرہ شروع ہو گیا۔داغؔ نے اپنی باری سے غزل شروع کی۔

داغؔ فرماتے ہیں کہ جب یہ شعر پڑھا؎

ہوۓ مغرور وہ ،جب آہ میری بے اثر دیکھی
کسی کا اس طرح یارب نہ دنیا میں بھرم نکلے

تو یہ سن کر بادشاہ نے اپنے پاس بلایا اور ان کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔ اس وقت داغؔ بائیس سال کے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل غزل ملاحظہ فرمائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکال اب تیر سینے سے کہ جان پر الم نکلے
جو یہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

تمنا وصل کی اک رات میں کیا اے صنم نکلے
قیامت تک یہ نکلے گر نہایت کم سے کم نکلے

خدا ہے حشر کے دن التجا تیری نہ مانوں میں
مرے منہ سے نہیں نکلے ترے منہ سے قسم نکلے

مرے دل سے کوئی پوچھے شب فرقت کی بے تابی
یہی فریاد تھی لب پر کہ یار ب جلد دم نکلے

ہوئے مغرور وہ جب آہ میری بے اثر دیکھی
کسی کا ا س طرح یا رب نہ دنیا میں بھرم نکلے

مبارک ہو یہ گھر غیروں کو تم کو پاسبانوں کو
ہمارا کیا اجارہ ہے نکالا تم نے ہم نکلے

نہ اُٹھے مر کے بھی ایسے ترے کوچے میں ہم بیٹھے
محبت میں اگر نکلے تو ہم ثابت قدم نکلے

نہ گزرا بے خلش یاد مثرہ میں ایک دم ہم کو
کہ ڈوبے نشتر غم دل سے جب خار الم نکلے

رہ ِالفت کو اک سیدھا سا رستہ ہم نے جانا تھا
مگر دیکھا تو اس رستے میں صدہا پیچ و خم نکلے

سمجھ کر رحم دل تم کو دیا تھا ہم نے دل اپنا
مگر تم تو بلا نکلے غضب نکلے ستم نکلے

نہ نکلا دل ہی سینے سے نہ پیکان ہی جدا نکلا
اگر نکلے تو دونوں آشنا ہو کر بہم نکلے

برا ہو اس محبت کا کہ اس نے جان سے کھویا
لگا دل اُس ستمگر سے اجل کا جس سے دم نکلے

د م ِپرسش جو دیکھا اُس بتِ سفاک کومضطر
صفِ محشر سے دل پکڑے ہوئے گھبراکے ہم نکلے

کہیں کیادل میں کیاآیا کہیں کیامنہ سے کیانکلا
کبھی جو چلتے پھرتے ہم سُوِبیت الصنم نکلے

گئے ہیں رنج وغم اے داغؔ بعد مرگ ساتھ اپنے
اگرنکلے تویہ اپنے رفیقانِ عدم نکلے

داغؔ دہلوی

ہماری بستیوں سے امن و چاہت کے عَلم نکلے
تمہاری بستیوں سے جب بھی نکلے ہیں تو بم نکلے

برائی ان دنوں آباد ہے اچھے گھرانوں میں
کہ میخانے سے جتنے لوگ نکلے محترم نکلے

کوئی ایسا نہ تھا کہ جو قصیدہ لکھ سکے میرا
مگر بدنام کرنے کو ہزاروں کے قلم نکلے

جو تیرا غم نکلتا ہے تو میرا دم  نکلتا ہے
کہ میرے دل سے تیرا غم اگر نکلے تو کم نکلے

یہ مکاّروں کی الماری سے مال و زر نکلتے ہیں
ادیبوں کے گھروں سے صرف کاغذ اور قلم نکلے

بہت  سے  منچلے  نکڑ ّ پہ  اسکی راہ تکتے ہیں
اسے کہہ دو کہ وہ گھر سے اگر نکلے تو کم نکلے

جُدا جب سے ہوئے ہو تم تو یہ ہے کیفیت میری
نہ اک پل سانس لوں تنہاؔ نہ آسانی سے دم نکلے

تری محفل میں حق کی بات ہم نے کیا کہی تنہاؔ
"بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے"

✏ثاقب تنہاؔ
مالیگاوں
8446842077

Friday, 20 January 2017

سلام اس پر کہ ۔ ۔ ۔

"میں نے اپنی مشہور نظم "ظہور قدسی"(سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی) کہی تو اسے لے کر مولانا(مناظر احسن گیلانی) مرحوم کی خدمت میں حاضر ہوا۔وہ ان دنوں عثمانیہ یونیورسٹی کے قریب رہتے تھے،میں نے نظم سنائی،تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں رواں ہوگئیں۔کاش! عشقِ رسولؐ کے ان موتیوں کو میں چن سکتا!میری اس نظم پر مولانا گیلانی مرحوم نے مقدمہ لکھا اور نظم کی شہرت و مقبولیت کی جو پیشگوئی انہوں نے اس وقت کی تھی وہ بعد میں جاکر حرف بہ حرف پوری ہوئی ۔میری سعادت اور خوش نصیبی کی انتہا ہے کہ دو سال پہلے جب میں نے روضہ رسولؐ پر حاضری دی تو مسجدِ نبوی کے دروازے پر یہ نظم(ظہورِ قدسی) کتابی صورت میں تقسیم ہورہی تھی۔"---ماہرؔ القادری

ظہورِقدسی

وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين

سحر کا وقت ہے معصوم کلیاں مسکراتی ہیں
ہوائیں خیر مقدم کے ترانے گنگناتی ہیں

مئے عشرت چھلکتی ہے ستاروں کے کٹاروں سے
ابلتی ہے شرابِ خلد،مٹی کے سکوروں سے

کھبی جاتی ہے آنکھوں میں گل و لالہ کی رعنائی
کہ جیسے در حقیقت خاک پر جنت اتر آئی

لٹاتے ہیں درِ خوشی آب گلزاروں کے فوارے
خوشی سے جگمگاتے ہیں ثوابت ہوں کہ سیارے

بہارِ شبنمِ گل چور ہے کیفِ جوانی میں
نہا کر جیسے آئی ہے ابھی کوثر کے پانی میں

خوشی کے گیت گائے جارہے ہیں آسمانوں پر
درودوں کے ترانے ہیں فرشتوں کی زبانوں پر

سجائی جا رہی ہے محفلِ ہستی قرینے سے
وہ جلوے کار فرما ہیں گزر جائیں جو سینے سے

طرب کے جوش سے ایک ایک ذرہ مسکراتا ہے
زمیں کی آج قسمت پر فلک کو رشک آتا ہے

زمیں سے آسماں تک نور کی بارش ہی بارش ہے
کسی کی بے نیازی آج سرگرمِ نوازش ہے

ستاروں کے کنول جلوہ فگن رنگین و سادہ ہیں
فرشتے بہرِ استقبال ہر سو استادہ ہیں

اشارے ہو رہے ہیں گلشنِ جنت کے پھولوں میں
وہ رعنائی نظر آتی ہے،مکہ کے ببولوں میں

برستے ہیں گہر انوار کی میزابِ رحمت سے
کبوتر رقص میں ہیں بامِ کعبہ پر مسرت سے

مسرت کے اثر سے مثلِ صبحِ خلد ہیں خنداں
حرم کے در،منا کی وادیاں،عرفات کا میداں

ابھی جبریل اترے بھی نہ تھے کعبہ کے منبر سے
کہ اتنے میں صدا آئی یہ عبداللہ کے گھر سے

مبارک ہو شہِ ہر دوسراتشریف لےآئے
مبارک ہو محمد مصطفٰی تشریف لے آئے

مبارک ہو غمگسارِ بیکساں تشریف لے آئے
مبارک ہو شفیعِ عاصیاں تشریف لے آئے

مبارک ہو نبیؐ آخری تشریف لے آئے
مبارک ہو جہاں کی روشنی تشریف لے آئے

مبارک ہادیء دینِ مبین تشریف لے آئے
مبارک رحمۃ اللعالمین تشریف لے آئے

مبارک رہبروں کے پیشوا تشریف لے آئے
مبارک صدرِ بزمِ انبیاء تشریف لے آئے

مبارک دست گیرِ بے نوا تشریف لے آئے
مبارک دردمندوں کی دعا تشریف لے آئے

مبارک مخبرِؐ صادق لقب تشریف لے آئے
مبارک سیدِ والا نسب تشریف لے آئے

مبارک خاتمِ پیغمبراں تشریف لے آئے
مبارک ہو امیرِ کارواں تشریف لے آئے

مبارک زندگی کا مدعا تشریف لے آئے
مبارک ہو کہ محبوبِ خدا تشریف لے آئے

مبارک پیکرِ صبر و رضا تشریف لے آئے
مبارک جدِ شاہِ کربلا تشریف لے آئے

مبارک قبلہء اربابِ دیں تشریف لے آئے
مبارک صادق الوعد و امیں تشریف لے آئے

مبارک صبح کو شمس الضحٰی تشریف لے آئے
مبارک رات کو بدرالدجٰی تشریف لے آئے

مبارک کاشفِ اسرارِ حق تشریف لے آئے
مبارک مظہرِ انوارِ حق تشریف لے آئے

مبارک حسن کو حسنِ ادا تشریف لے آئے
مبارک عشق کو جانِ وفا تشریف لے آئے

مبارک ہو رسولِؐ محتشم تشریف لے آئے
مبارک ہو نبیء محترم تشریف لے آئے

مبارک قاسمِ خلد و جناں تشریف لے آئے
حریمِ قدس کے ساکن کہاں تشریف لے آئے

وہ آئے جن کے آنے کی زمانہ کو ضرورت تھی
وہ آئے جن کی آمد کے لیے بےچین فطرت تھی

وہ آئے نغمہء داؤد میں جن کا ترانہ تھا
وہ آئے گریہء یعقوب میں جن کا افسانہ تھا

وہ آئے مہرِ عالمتاب تھا جن کا حسیں چہرا
وہ آئے جن کے ماتھے پر شفاعت کا بندھا سہرا

وہ آئے جن کی خاطر مضطرب تھی وادیء بطحا
وہ آئے جن کے سجدوں کے لیے کعبہ ترستا تھا

وہ آئے جن کو ابراہیم کا نورِ نظر کہیے
وہ جن کو اسماعیل کا لختِ جگر کہیے

وہ آئے جن کے آنے کو گلستاں کی سحر کہیے
وہ آئے جن کو ختم الانبیاء خیرالبشر کہیے

وہ آئے جن کے ہر نقشِ قدم کو رہنما کہئے
وہ آئے جن کے فرمانے کو فرمانِ خداکہئے

وہ آئے جن کو رازِ کن فکاں کا پردہ در کہیے
وہ آئے جن کو حق کا آخری پیغامبرؐ کہیے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام اس پرکہ اسرار محبت جس نے سمجھائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اس پر کہ دشمن کو حیات جاوداں دے دی
سلام اس پر، ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی

سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں

Tuesday, 17 January 2017

نوائے عشق

.میرا عشق ہو...
- تیری ذات ہو...-
- پھر حُسْن عشق کی بات ہو...-
- کبھی میں ملوں...-
- کبھی تو ملے...-
- کبھی ہم ملیں ملاقات ہو...-
- کبھی تو ہو چُپ...-
- کبھی میں ہوں چُپ...-
- کبھی دونوں ہم چُپ چاپ ہوں...-
- کبھی گفتگو..-
- کبھی تذکرے...-
- کوئی ذکر ہو...-
- کوئی بات ہو...-
- کبھی حجر ہو تو دن کو ہو...-
- کبھی وصل ہو تو وہ رات ہو...-
- کبھی میں تیرا کبھی تو میرا...-
- کبھی اک دوجے کے ہم رہیں...-
- کبھی ساتھ میں....-
- کبھی ساتھ تو...-
- کبھی اک دوجے کے ساتھ ہوں...-
- کبھی صعوبتیں...-
- کبھی رنجشیں...-
- کبھی دوریاں...-
- کبھی قربتیں...-
- کبھی الفتیں....-
- کبھی نفرتیں...-
- کبھی جیت ہو...-
- کبھی ہار ہو...-
- کبھی پھول ہو...-
- کبھی دھول ہو...-
- کبھی یاد ہو...-
- کبھی پھول ہو...-
- نا نشیب ہوں...-
- نا " اداس " ہوں....-
- صرف تیرا عشق ہو......-
- میری ذات ہو...............!!!

Monday, 16 January 2017

ڈاکو کا انٹرویو (ہزل)

ﺟﯽ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﺍﺑﻮ ﺩﺍﺅﺩ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ​
ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻤﺮﺩﻭﺩ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ​

ﻣِﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ، ﻓﺮﯾﺪ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮈﺍﮐﻮ ﺗﮭﮯ​
ﺧﺪﺍ ﺑﺨﺸﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ، ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﮨﻼﮐﻮ ﺗﮭﮯ​

ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﭼﻮﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﮯ ﭘﺎﮰ ﮐﺎ​
ﭼﺮﺍ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺁﮰ ﺗﮭﮯ ﮐﺘﺎ ﻭﺍﺋﺴﺮﺍﮰ ﮐﺎ​

ﻣﺮﮮ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻌﻠﯽ ﻧﻮﭦ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ​
ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﭼﻮﺭ ﮈﺍﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ​

ﻣﺮﮮ ﭘﮭﻮﭘﮭﺎ ﭼﮭﭩﮯ ﺑﺪﻣﻌﺎﺵ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ​
ﺧﺪﺍ ﺑﺨﺸﮯ ﺑﮩﺖ ﺷﻮﻗﯿﻦ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺟﯿﻞ ﺧﺎﻧﮯ ﮐﮯ​

ﺧُﺴﺮ ﺻﺎﺣﺐ، ﺳﺨﺎﻭﺕ ﭘﻮﺭ ﮐﯽ ﺭﺍﻧﯽ ﺑﮭﮕﺎ ﻻﮰ​
ﻣﺮﮮ ﮨﻢ ﺯُﻟﻒ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﮰ​

ﻣﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﻓﻮﺭ ﭨﻮﻧﭩﯽ ﭼﯿﻒ ﺟﺴﭩﺲ ﺳﮯ​
ﻭﮦجب ﺑﮕﮍﺍ، ﺟﻼﺩﯾﮟ ﺍسکی ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﭼﺲ ﺳﮯ​

ﺑﮍﮮ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﻢ​
ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻓﻀﻞ ﮨﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ​

ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺭﺍﺟﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﯿﺒﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺘﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ​
ﭼﺮﺱ، ﮐﻮﮐﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﯿﻮﻥ ﮐﺎ ﺩﮬﻨﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ​

ﻣﺮﮮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﭼﻮﺩﮦ ﺑﯿﻨﮏ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ​
ﻣِﺮﯼ ﮐﻮﺷﺶ ﺳﮯ ﺑﺎﻋﺰﺕ ﺑﺮﯼ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ​

ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﺩﻟﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ​
ﮐﺮﺍﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻭﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ​

ﺟﻮ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺰﺍﺭﮮ، ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻮﮐﺖ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﮮ ﮨﯿﮟ​
ﺫﺭﺍ ﮐﭽﮫ ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﺮﺩﺵ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ​

ﺭﺍﺟﺎ ﻣﮩﺪﯼ ﻋﻠﯽ خان

Thursday, 12 January 2017

میرے رشک قمر

میرے رشکِ قمر، تو نے پہلی نظر، جب نظر سے ملائی مزا آ گیا
برق سی گر گئی، کام ہی کر گئی، آگ ایسی لگائی مزا آ گیا

جام میں گھول کر حُسن کی مستیاں، چاندنی مسکرائی مزہ آگیا
چاند کے سائے میں اے میرے ساقیا! تو نے ایسی پلائی مزا آ گیا

نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا، بزمِ رِنداں میں ساغر کھنکنے لگے
مئے کدے پہ برسنے لگیں مستیاں، جب گھٹا گھر کے چھائی مزا آ گیا

بے حجابانہ وہ سامنے آ گئے، اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی
آنکھ ان کی لڑی یُوں میری آنکھ سے، دیکھ کر یہ لڑائی مزا آ گیا

شیخ صاحب کا اِیماں بہک ہی گیا، دیکھ کر حُسنِ ساقی پگھل ہی گیا
آج سے پہلے یہ کتنے مغرور تھے، لُٹ گئی پارسائی مزا آ گیا

آنکھ میں تھی حیا ہر ملاقات پر، سُرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر
اس نے شرما کے میرے سوالات پہ، ایسے گردن جُھکائی مزا آ گیا

اے فناؔ شکر ہے آج بعدِ فنا، اُس نے رکھ لی میرے پیار کی آبرُو
اپنے ہاتھوں سے اُس نے مری قبر پہ، چادرِ گُل چڑھائی مزا آ گیا

Wednesday, 28 December 2016

سردیاں ۔۔۔

سردیاں

ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ دیکھے جاڑے
دو بجے دن کو اذاں دیتے تھے مرغ سارے

وہ گھٹا ٹوپ نظر آتے تھے دن کو تارے
سرد لہروں سے جمے جاتے تھے مے کے پیالے

ایک شاعر نے کہا چیخ کے ساغر بھائی
عمر میں پہلے پہل چمچے سے چائے کھائی

آگ چھونے سے بھی ہاتھوں میں نمی لگتی تھی
سات کپڑوں میں بھی کپڑوں کی کمی لگتی تھی

وقت کے پاؤں کی رفتار تھمی لگتی تھی
راستے میں کوئی بارات، جمی لگتی تھی

جم گیا پشت پہ گھوڑے کی بیچارا دولہا
کھود کے كھرپی سے سالے نے اتارا دولہا

كڑكڑاتے ہوئے جاڑوں کی قیامت توبہ
آٹھ دن کر نہ سکے لوگ حجامت توبہ

سرد تھا ان دنوں بازار محبت توبہ
کر کے بیٹھے تھے شريفاً سے شرافت توبہ

وہ تو زحمت بھی قدمچوں کی نہ سرلیتے تھے
جو بھی کرنا تھا بچھونے پہ ہی کر لیتے تھے

سرد گرمی کا بھی مضمون ہوا جاتا تھا
جم کے ٹانک بھی تو معجون ہوا جاتا تھا

جسم لرزے کے سبب نون ہوا جاتا تھا
خاصہ شاعر بھی تو مجنون ہوا جاتا تھا

كپكپاتے ہوئے ہونٹوں سے غزل گاتا تھا
پکے راگوں کا وہ استاد نظر آتا تھا

اور بھی سرد ہیں، معبود یہ احساس نہ تھا
کب سے آئے نہیں محمود یہ احساس نہ تھا

قلفا کھاتے ہیں کہ امرود یہ احساس نہ تھا
ناک چہرے پہ ہے موجود یہ احساس نہ تھا

منہ پہ رومال رکھے بزم سے کیا آئے تھے
ایسا لگتا تھا وہاں ناک کٹا آئے تھے

سخت سردی کے سبب رنگ تھا محفل کا عجیب
ایک کمبل میں گھسے بیٹھے تھے دس بیس غریب

سرد موسم نے کیا پنڈت و ملا کو قریب
كڑكڑاتے ہوئے جاڑے وہ سخن کی تقريب

درمياں شاعر و سامع کے تھمے جاتے تھے
اتنی سردی تھی کہ اشعار جمے جاتے تھے

ساغر خیامی

Contact Form

Name

Email *

Message *