Pages

Wednesday, 26 April 2017

وتر کسے کہتے ہیں ؟

وتر کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟

جانتے ہو وتر میں ہم ہر روز الله سے ایک وعدہ کرتے ہیں ۔
اور وہ وعدہ بھی عبادت کی سب سے آخری ایک رکعت میں ہوتا ہے ۔
دعائے قنوت ایک عہد ہے الله سبحانہ و تعالی کے ساتھ ۔۔۔۔  ایک معاھدہ ہے ۔۔ ایک وعدہ ہے ۔

الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ ۔۔۔۔ اے الله ! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔
وَنَسْتَغْفِرُکَ ۔۔۔۔۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں ۔
وَنُؤْمِنُ بِکَ ۔۔۔۔ اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں ۔
وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ ۔۔۔۔۔۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔
وَنُثْنِیْ اِلَیْکَ الْخَیْر ۔۔۔۔ اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں ۔
وَنَشْکُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں ۔
ولا نَکْفُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے ۔
وَنَخْلَعُ ۔۔۔ اور ہم الگ کرتے ہیں ۔
وَنَتْرُکَ مَنْ یّفْجُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کو جو تیری نا فرمانی کرے ۔
اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ ۔۔۔ اے الله ! ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔
وَلَکَ نُصَلّیْ ۔۔۔ اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔
وَنَسْجُدُ ۔۔۔۔ اور ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں ۔
وَاِلَیْکَ نَسْعٰی ۔۔۔ اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں ۔
وَنَحْفِدُ ۔۔۔۔۔ اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔
وَ نَرْجُوا رَحْمَتَکَ ۔۔ اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں ۔
وَنَخْشٰی عَذَابَکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔
انّ عَذَابَک بِالْکُفّارِ مُلْحِقْ۔۔۔۔۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے ۔

کبھی کبھی کچھ باتیں بڑی دیر سے پتہ چلتی ہیں ۔۔۔ یا شاید پتہ تو ہوتی ہیں ۔۔۔ لیکن ان کی اصل سے ان کے راز سے واقف ہونے کا بھی کوئی وقت کوئی لمحہ ہوتا ہے ۔
سارا علم کتابوں میں تو نہیں ہوتا نا  ۔۔۔ کچھ دلوں پر اترتا ہے ۔
دل بھی وہ جو الله کے نور اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبت سے بھرے ہوں ۔ سادہ  سے ۔ ریا سے پاک ۔۔۔۔ جو الله کے حکم کا سنتے ہی کوئی دلیل نہ مانگیں ۔۔۔
بس آمنّا اور صدّقنا کہہ دیں ۔
ارے یہ تو واقعی ہم ہر روز الله سبحانہ وتعالی سے وعدہ کرتے ہیں سونے سے پہلے ۔۔۔ اور کتنے نادان ہیں صبح ہوتے ہی سب کچھ بُھلا دیتے ہیں ۔
کیا ہم حقیقتا جانتے ہیں کہ نماز وتر ۔۔۔ دعائے قنوت الله سبحانہ تعالی سے ایک وعدہ ہے ایک معاھدہ ہے ؟
اور کیا ہم اسے پورا کرتے ہیں ؟
یا پورا کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں ؟

Wednesday, 5 April 2017

حساب کیسے ہوگا؟

ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے
اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے
انہوں نے پہلے لڑکے کو سو درہم،
دوسرے کو پچھتر،
تیسرے کو ساٹھ،
چوتھے کو پچاس،
پانچویں کو پچیس،
چھٹے کو دس،
ساتویں کو پانچ،
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک درہم دیا۔

لڑکے بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے  اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟

استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔

ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہا تھا۔ سب لڑکوں کے آ جانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے کا حساب دے گا۔

پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو درہم ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے  پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو دہم کیسے خرچ کیئے تھے۔

جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کیئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ درہم کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی کا جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل حساب دیکر نیچے اترا۔

اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے،
حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک درہم ملا تھا۔

استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک درہم کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔

استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا: بچو: یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا۔

لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے۔ آمین

(عرب میڈیا سے لیکر آپ کے نفیس ذوق کیلئے ترجمہ کیا ہے)۔

Friday, 24 February 2017

چوہادان اور انسانیت

کسان اﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮈﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ۔ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ۔ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣُﺮﻏﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ " ﮐﺴﺎﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ” ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮯ ﭼﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ “ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ "

ﭼﻮﮨﺎ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ “ ﮐﺴﺎﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ” ﺑﮑﺮﯼ ﻧﮯ ﭼﻮﮨﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ
“ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ”

ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﻭﮨﺮﺍﯾﺎ “ ﮐﺴﺎﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ” ۔ ﮔﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ” ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﮭﺴﺘﯽ ” ۔ﭼﻮﮨﺎ ﺑﺪ ﺩﻝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﺮ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑِﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ

ﺍﮔﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ
ﮐﮍﺍﮎ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ۔ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﭼﻮﮨﺎ ﭘﮑﮍﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮯ ﮐﺎﭦ ﻟﯿﺎ ۔ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﺬﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﯽ ﺩﻡ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﻭ ﭘﮑﺎﺭ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺴﺎﻥ ﺩﻭﮌﺍ ﺁﯾﺎ ۔ ﺻﻮﺭﺕِ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺳﮯ ﭨﯿﮑﺎ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ گیا ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯽ ﯾﺨﻨﯽ ﭘﻼﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ۔

ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﻏﯽﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﺨﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﯼ ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﯾﺨﻨﯽ ﭘﯿﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺑﺨﺎﺭ ﺭﮨﺎ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻼﻟﺖ ﮐﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻣﺰﺍﺝ ﭘﺮﺳﯽﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﺋﮯ ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﮑﺮﯼ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ ۔

ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﺋﮯ ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﮐﯿﺎ ﭼﻮﮨﺎ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﺎﺋﺖ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ.

ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮨﮯ ۔ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻞ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﻮگی.

Contact Form

Name

Email *

Message *