Pages

Thursday, 4 May 2017

اللہ کی تقسیم سے اختلاف

٭کسی نے شادی کرلی اور دس سال تک صاحب اولاد ہونے کا منتظر رہا، اور دوسری طرف کسی کو شادی کے پہلے برس ہی اولاد ِنرینہ کی نعمت مل گئی۔۔

٭کسی نے بائیس سال کی عمر میں امریکہ سے گریجویشن کیا اور پانچ سال ایک اچھی ملازمت کے حصول میں دھکےکھاتا رہا، اور دوسری طرف ایک شخص ستائیس سال کی عمر میں سرکاری یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوا اور فوری طور پر اسے اسکی "ڈریم جاب(Dream job )مل گئی۔

٭ کوئی پچیس سال کی عمر میں کروڑ پتی اور اپنے بزنس کا مالک تو بن گیا مگر اسکی اولاد انتہائی نااہل، نکمی اور ان پڑھ رہی اور دوسری طرف ایک شخص نے بچپن سے غربت اور محرومیاں دیکھیں مگر پچاس سال کی عمر اس کے بچے پڑھ لکھ کر سول اور ملٹری بیوروکریٹس بنے، بزنس ٹائیکون بنے کہ کروڑ پتی افراد بھی اس کی قسمت پر رشک کرنے لگے۔

ہم میں سے ہر شخص اپنی نیت اور مسلسل جدوجہد سے اپنی معاشی حالت کو بدلتاہے۔ مگر قسمت اور تقدیرکا "فیکٹر" ان سب سے اوپر ہے۔
آپ کے کلاس فیلو، دوست یا رشتہ دار یا آپ سے عمر میں چھوٹے لوگ بظاہر آپ سے آگے ہو سکتے ہیں،
ان سے جیلس (jealous) نہ ہوں اور نہ اللہ سے بدگمان ہوں کہ اس کو یہ کیوں دیا اور مجھے کیوں نہ دیا نہ اس کی شکل ہے نہ عقل اللہ نے کیا دیکھ کے اس کو یہ سب دے دیا؟ اس میں ایسی کیا خوبی اور صلاحیت ہے جو مجھ میں نہیں؟

صحت تندرستی، اولاد، تعلیم، عزت شہرت، تعلیم، جاب دولت گاڑی بڑا گھر یہ سب اللہ کی تقسیم اور اس کی عطا ہے اس لیئے اللہ کی تقسیم سے اختلاف اور اس کو چیلنج مت کیجئے۔ جو آپ کی قسمت میں ہے وہ کوئی چھین نہیں سکتا اور جو نہیں ہے وہ کوئی دے نہیں سکتا۔ ہر نعمت کو دیکھتے ہی آپ کی سوچ اس انسان کی بجائے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے جس نے درحقیقت اسکو یہ نعمت عطاکی۔

کسی سے پوچھا گیا "حسد" کیا ہے؟ فرمایا اللہ کی تقسیم سے اختلاف رکھنا۔
ہم کیسے نادان لوگ ہیں جو اپنے مالک سے نعمت کا سوال تو کرتے نہیں لیکن کسی اور پہ کرم ہوتا دیکھ نہیں سکتے۔ ہم دن میں کئی بار اللہ کی تقسیم سے اختلاف بھی کرتے ہیں اور "مجھ میں کیا کمی ہے" کہہ کے اس کی تقسیم کو چیلنج بھی کرتے ہیں اور پھر سکون اطمینان سےخالی دل کا شکوہ بھی کرتے ہیں !!!

Wednesday, 26 April 2017

وتر کسے کہتے ہیں ؟

وتر کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟

جانتے ہو وتر میں ہم ہر روز الله سے ایک وعدہ کرتے ہیں ۔
اور وہ وعدہ بھی عبادت کی سب سے آخری ایک رکعت میں ہوتا ہے ۔
دعائے قنوت ایک عہد ہے الله سبحانہ و تعالی کے ساتھ ۔۔۔۔  ایک معاھدہ ہے ۔۔ ایک وعدہ ہے ۔

الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ ۔۔۔۔ اے الله ! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔
وَنَسْتَغْفِرُکَ ۔۔۔۔۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں ۔
وَنُؤْمِنُ بِکَ ۔۔۔۔ اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں ۔
وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ ۔۔۔۔۔۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔
وَنُثْنِیْ اِلَیْکَ الْخَیْر ۔۔۔۔ اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں ۔
وَنَشْکُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں ۔
ولا نَکْفُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے ۔
وَنَخْلَعُ ۔۔۔ اور ہم الگ کرتے ہیں ۔
وَنَتْرُکَ مَنْ یّفْجُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کو جو تیری نا فرمانی کرے ۔
اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ ۔۔۔ اے الله ! ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔
وَلَکَ نُصَلّیْ ۔۔۔ اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔
وَنَسْجُدُ ۔۔۔۔ اور ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں ۔
وَاِلَیْکَ نَسْعٰی ۔۔۔ اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں ۔
وَنَحْفِدُ ۔۔۔۔۔ اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔
وَ نَرْجُوا رَحْمَتَکَ ۔۔ اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں ۔
وَنَخْشٰی عَذَابَکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔
انّ عَذَابَک بِالْکُفّارِ مُلْحِقْ۔۔۔۔۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے ۔

کبھی کبھی کچھ باتیں بڑی دیر سے پتہ چلتی ہیں ۔۔۔ یا شاید پتہ تو ہوتی ہیں ۔۔۔ لیکن ان کی اصل سے ان کے راز سے واقف ہونے کا بھی کوئی وقت کوئی لمحہ ہوتا ہے ۔
سارا علم کتابوں میں تو نہیں ہوتا نا  ۔۔۔ کچھ دلوں پر اترتا ہے ۔
دل بھی وہ جو الله کے نور اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبت سے بھرے ہوں ۔ سادہ  سے ۔ ریا سے پاک ۔۔۔۔ جو الله کے حکم کا سنتے ہی کوئی دلیل نہ مانگیں ۔۔۔
بس آمنّا اور صدّقنا کہہ دیں ۔
ارے یہ تو واقعی ہم ہر روز الله سبحانہ وتعالی سے وعدہ کرتے ہیں سونے سے پہلے ۔۔۔ اور کتنے نادان ہیں صبح ہوتے ہی سب کچھ بُھلا دیتے ہیں ۔
کیا ہم حقیقتا جانتے ہیں کہ نماز وتر ۔۔۔ دعائے قنوت الله سبحانہ تعالی سے ایک وعدہ ہے ایک معاھدہ ہے ؟
اور کیا ہم اسے پورا کرتے ہیں ؟
یا پورا کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں ؟

Wednesday, 5 April 2017

حساب کیسے ہوگا؟

ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے
اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے
انہوں نے پہلے لڑکے کو سو درہم،
دوسرے کو پچھتر،
تیسرے کو ساٹھ،
چوتھے کو پچاس،
پانچویں کو پچیس،
چھٹے کو دس،
ساتویں کو پانچ،
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک درہم دیا۔

لڑکے بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے  اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟

استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔

ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہا تھا۔ سب لڑکوں کے آ جانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے کا حساب دے گا۔

پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو درہم ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے  پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو دہم کیسے خرچ کیئے تھے۔

جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کیئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ درہم کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی کا جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل حساب دیکر نیچے اترا۔

اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے،
حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک درہم ملا تھا۔

استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک درہم کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔

استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا: بچو: یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا۔

لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے۔ آمین

(عرب میڈیا سے لیکر آپ کے نفیس ذوق کیلئے ترجمہ کیا ہے)۔

Contact Form

Name

Email *

Message *