Pages

Thursday, 29 December 2016

مقبولیت کے ۱۰ طریقے

لوگوں میں مقبول ہونے کے دس طریقے
ہر شخص چاہتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں، اسے پسند کریں اور اس کے گن گائیں۔ مگر یہ منزل حاصل کر لینا اتنا آسان کام نہیں۔ اس کے لیے انسان کو اپنی پسند، خواہش اور نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ذیل میں چند وہ خصوصیات بیان کی جاتی ہیں جن کی بدولت آپ اپنے قریب رہنے والے انسانوں میں ہردلعزیز بن سکتے ہیں۔
1. لوگوں کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کریں۔ جب آپ کسی کے سامنے کسی دوسرے شخص کی برائی کر رہے ہوتے ہیں تو دراصل آپ سامنے والے کو یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ اس کی بھی اسی طرح دوسروں کے سامنے برائی کرتے ہوں گے۔
2. لوگوں کو زیادہ سے زیادہ دینا سیکھیں اور کوشش کریں کہ ان سے کوئی چیز نہ مانگیں، بلکہ صرف اپنے رب سے مانگیں جو حقیقی داتا ہے اور جس کے خزانوں میں کسی قسم کی کمی نہیں۔
3. ہر وقت مسکرانا سیکھیں۔ مسکراہٹ سے بڑھ کر کوئی چیز ایسی نہیں جو لوگوں کو آپ سے قریب کرتی ہو۔ اس لیے جتنا ہو سکے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھیں۔ اگر کسی کو سخت بات بھی بولیں تو مسکراتے چہرے کے ساتھ بولیں تو اس کا اثر مثبت ہی ہوگا۔
4۔ کسی سے گفتگو کے دوران اپنی توجہ اس کی طرف رکھیں اور اسے یہ محسوس نہ ہونے دیں کہ اس کی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ اگر موبائل یا اخبار وغیرہ ہاتھ میں ہو تو اس کو ایک طرف رکھ دیں اور آنکھوں کا رابطہ برقرار رکھتے ہوئے بات کریں۔ باہمی گفتگو کے دوران باربار موبائل کی اسکرین دیکھنا یا اسے ہاتھ میں لے کر کھیلتے رہنا، سامنے والے پر نہایت گراں گزرتا ہے اور اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید اس کی اہمیت اس موبائل سے بھی کم ہے۔
5. صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔ آپ کے صاف اور دھلے ہوئے کپڑے، آپ کے تراشے ہوئے ناخن اور بال، آپ کے چمکیلے اور صاف دانت، آپ کے پالش کیے ہوئے جوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی ہیں اس لیے ان چیزوں کا خیال رکھیں۔ جرابیں اور انڈرگارمنٹس دھلے ہوئے اور بدبو سے پاک ہونے چاہئیں۔ لوگوں کے سامنے ناک صاف کرنا، کانوں کا میل کچیل نکالنا یا دانتوں میں خلال کرنا اچھی عادت نہیں اس لیے محفل میں ان حرکات سے بچنا ازبس ضروری ہے۔
6. بات کرے ہوئے اونچی آواز کے بجائے پست آواز میں بات کرنی چاہیے، مگر اتنی پست بھی نہیں کہ کوئی سن نہ سکے اور اتنی اونچی بھی نہیں کہ لوگوں کے کان چھید دے۔ فون پر بات کرتے ہوئے کوشش کریں کہ آواز کے اندر نرمی اور مٹھاس ہو۔ اس لیے کہ آمنے سامنے بات چیت کرتے ہوئے تو فرد آپ کی باڈی لینگویج اور موڈ کو جانچ سکتا ہے مگر فون پر صرف لہجہ اور آواز ہی وہ چیز ہے جو آپ کی شخصیت کو بیان کر رہی ہوتی ہے۔
7. لوگوں کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنا سیکھیں اور انہیں ان کی کامیابیوں پر مبارکباد دیں۔ ان کی اچھائیوں کی تعریف سب کے سامنے کریں اور کمی کوتاہی پر تنہائی میں توجہ دلائیں۔
8. ہمیشہ بہتر چیز دوسروں کو دینے کی کوشش کریں اور کم تر چیز خود اپنے لیے رکھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو مسواک لے کر گھر تشریف لائے۔ جو سیدھی ٹہنی تھی وہ آپﷺ نے بی بی عائشہ رضہ کو دے دی اور خود خمیدہ ٹہنی اپنے لیے رکھی۔ بس یا ہوائی جہاز میں سفر کرنا ہو تو خود اچھل کر کھڑکی والی سائڈ پر نہ بیٹھ جائیں بلکہ دوست کو دے دیں، کھانا کھانا ہو تو بہتر چیزیں دوستوں کے سامنے رکھیں، جب آپ کوئی چیز تقسیم کرنے لگیں تو پہلے دوسروں کو دیں اور آخر میں خود لیں اور اس بات کے لیے بھی تیار رہیں کہ ممکن ہے آپ کے لیے کچھ بھی نہ بچے۔
9. اگر آپ نے اپنے کپڑوں کے ساتھ، بھائی، والد یا بیٹے کے لیے کپڑے خریدے ہیں تو سب سے پہلے ان کے سامنے سب کپڑے رکھیں تاکہ وہ اپنا پسندیدہ رنگ لے لیں، آخر میں آپ خود لیں۔ اگر آپ نے اپنی والدہ اور بیوی یا بیٹی کے لیے بھی کپڑے خریدے ہیں تو سب سے پہلے والدہ کے سامنے رکھیں تاکہ وہ اپنا پسندیدہ رنگ منتخب کرلیں۔
10. تحفے تحائف کا اہتمام کریں۔ اپنے قریبی لوگوں کو چھوٹے موٹے گفٹ دینے کو ہلکا نہ سمجھیں پھر چاہے وہ تحفہ کتنا ہی سستا کیوں نہ ہو۔ اصل اہمیت اس چیز کی ہے کہ آپ نے کسی فرد کو اہمیت دی اور اسے یاد رکھا۔ یہ وہ چیز ہے جو بڑے بڑے سخت دل لوگوں کو ملائم کر دیا کرتی ہے۔

دفن نہ ہو جائیں۔۔۔

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے کنویں میں جا گرا اور زور زور سے اوازے نکالنےلگا.

گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنویں کے کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا.

جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے، وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا،
چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور کنویں کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں.

یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور کنواں بند کرنا شروع کر دیا. سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی، بجری اور کوڑا کرکٹ کنویں میں ڈال رہے تھےگھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا.

اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی. کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا.
جب کسان نے کنویں میں جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری
ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے.
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا. کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے کنویں کے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا.
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں پڑ گئے. ان کی حیرانی قابل دید تھی. اس غیر متوقع نتیجے پر وہ گھوڑےسے بھی بڑھ کر مجسمہ حیرت بنے ہوئے تھے

زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں
کہ ہمارے اوپرکچرا اچھالا جائے،
ہماری کردار کشی کی جائے، ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے، ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے، لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں،

بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے. زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں

یا ان کے اوپر چڑھ کر
مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں...

خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا...!!

Wednesday, 28 December 2016

رسول عربی ﷺ

نعت:

آپ ہیں ۔۔۔ صاحبِ قرآن رسولِ عربی ﷺ

عام ہے ۔۔ آپ کا ۔۔ فیضان رسولِ عربی ﷺ

آپ کی سیرتِ حسنہ کو  عبارت سمجھوں

اور ۔۔ قرآن کو ۔۔۔ عنوان رسولِ عربی

بولہب ۔۔ وقت کے آمادۂ سازش ہونگے

آج بھی ہے یہی ۔۔۔ امکان رسولِ عربی
 
رات دن ذہن میں رہتا ہے یہی ایک سوال

ایک کب ہوں گے مسلمان رسولِ عربی؟
 
کیا سروکار مجھے ۔۔ دوسرےعنوانوں سے

مرا مضموں ۔۔۔ مرا عنوان رسولِ عربی
 
اک نئے عزمِ مصمّم سے نکھارے گا عزیزؔ

فکر اور ۔۔ فن کا ۔۔۔ گلستان رسولِ عربی

                   *===  عزیز بلگامی ===*

 ─•═▤ 🌒 مــاہِ 🌙 تـمــام 🌘 ▤═•─

...✒اردو شاعری کے لئے معتبر گروپ🖋...
      ┏┅━┅━┅━┅━┅━┅━┅─╮
      ┇🌒MAHE🌙TAMAM🌘
      ┗┅━┅━┅━┅━─╮
    

Contact Form

Name

Email *

Message *