Pages

Friday, 24 February 2017

چوہادان اور انسانیت

کسان اﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮈﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ۔ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ۔ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣُﺮﻏﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ " ﮐﺴﺎﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ” ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮯ ﭼﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ “ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ "

ﭼﻮﮨﺎ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ “ ﮐﺴﺎﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ” ﺑﮑﺮﯼ ﻧﮯ ﭼﻮﮨﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ
“ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ”

ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﻭﮨﺮﺍﯾﺎ “ ﮐﺴﺎﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ” ۔ ﮔﺎﺋﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ” ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﮭﺴﺘﯽ ” ۔ﭼﻮﮨﺎ ﺑﺪ ﺩﻝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﺮ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑِﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ

ﺍﮔﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ
ﮐﮍﺍﮎ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ۔ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﭼﻮﮨﺎ ﭘﮑﮍﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮯ ﮐﺎﭦ ﻟﯿﺎ ۔ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﭼﻮﮨﮯ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﺬﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﯽ ﺩﻡ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﻭ ﭘﮑﺎﺭ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺴﺎﻥ ﺩﻭﮌﺍ ﺁﯾﺎ ۔ ﺻﻮﺭﺕِ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺳﮯ ﭨﯿﮑﺎ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ گیا ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯽ ﯾﺨﻨﯽ ﭘﻼﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ۔

ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﻏﯽﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﺨﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﯼ ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﯾﺨﻨﯽ ﭘﯿﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺑﺨﺎﺭ ﺭﮨﺎ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻼﻟﺖ ﮐﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻣﺰﺍﺝ ﭘﺮﺳﯽﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﺋﮯ ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﮑﺮﯼ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯽ ۔

ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﺋﮯ ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﮐﯿﺎ ﭼﻮﮨﺎ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﺎﺋﺖ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ.

ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮨﮯ ۔ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻞ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﻮگی.

Sunday, 19 February 2017

پرواز میں کوتاہی

بہت پرانی بات ہے، ایک بادشاہ کو تحفے میں کسی نے "باز" کے دو بچے نذر کئے. وہ بڑی ہی اچھی نسل کے تھے، اور بادشاہ نے کبھی اس سے پہلے اتنے شاندار باز نہیں دیکھے تھے.

بادشاہ نے ان کی دیکھ بھال کے لئے ایک تجربہ کار آدمی کو مقرر کر دیا. جب کچھ ماہ گزر گئے تو بادشاہ نے بازوں کو دیکھنے ارادہ کیا، اور اس جگہ پہنچ گیا جہاں انہیں پالا جا رہا تھا. بادشاہ نے دیکھا کہ دونوں باز کافی بڑے ہو چکے تھے اور اب وہ پہلے سے بھی شاندار لگ رہے تھے.

بادشاہ نے بازوں کی دیکھ بھال کر رہے آدمی سے کہا، "میں انھیں پرواز کرتے دیکھنا چاہتا ہوں، آپ انہیں اڑنے کا اشارہ کریں. "اس آدمی نے ایسا ہی کیا.

اشارہ ملتے ہی دونوں باز پرواز کرنے لگے، پر جہاں ایک باز آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا، وہیں دوسرا، کچھ اوپر جاکر واپس اسی ڈال پر آکر بیٹھ گیا جس سے وہ اڑا تھا.

یہ دیکھ کر، بادشاہ کو کچھ عجیب لگا.

"کیا بات ہے جہاں ایک باز اتنی اچھی پرواز بھر رہا ہے وہیں یہ دوسرا باز پرواز ہی نہیں چاہ رہا؟"، بادشاہ نے سوال کیا.

"جی حضور، اس باز کے ساتھ شروع سے یہی مسئلہ ہے، وہ اس ڈال کو چھوڑتا ہی نہیں."

بادشاہ کو دونوں ہی باز عزیز تھے، اور وہ دوسرے باز کو بھی اسی طرح پرواز کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے.

اگلے دن پوری ریاست میں اعلان کرا دیا گیا کہ جو شخص اس باز کو اونچا اڑانے میں کامیاب ہوگا اس ڈھیروں انعام دیا جائے گا.

پھر کیا تھا، ایک سے ایک ماہرین آئے اور باز کو اڑانے کی کوشش کرنے لگے، پر ہفتوں گزر جانے کے بعد بھی باز کا وہی حال تھا، وہ تھوڑا سا اڑ کر واپس ڈال پر آکر بیٹھ جاتا.

پھر ایک دن کچھ منفرد ہوا، بادشاہ نے دیکھا کہ اس کے دونوں باز آسمان میں پرواز کر رہے ہیں. انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہوا اور انہوں نے فوری طور پر اس شخص کا پتہ لگانے کو کہا جس نے یہ کارنامہ کر دکھایا تھا.

وہ شخص ایک کسان تھا.

اگلے دن وہ دربار میں حاضر ہوا. اس کے انعام میں طلائی کرنسیاں ملنے کے بعد بادشاہ نے کہا، "میں تم سے بہت خوش ہوں، بس آپ کو اتنا بتا کہ جو کام بڑے بڑے ودوان نہیں کر پائے وہ تمنے کیسے کر دکھایا. "

"مالک! میں تو ایک عام سا کسان ہوں، میں علم کی زیادہ باتیں نہیں جانتا، میں نے تو بس وہ ڈال کاٹ دی جس پر بیٹھنے کا باز وغیرہ ہو چکا تھا، اور جب وہ ڈال ہی نہیں رہی تو وہ بھی اپنے ساتھی کے ساتھ پرواز لگا. "

دوستوں، ہم سب سے اونچا اڑنے کے لئے ہی بنے ہیں. لیکن کئی بار ہم جو کر رہے ہوتے ہیں اس کے اتنے وغیرہ ہو جاتے ہیں کہ اپنی اونچی پرواز کرنے کی، کچھ بڑا کرنے کی قابلیت کو بھول جاتے ہیں. اگر آپ بھی سالوں سے کسی ایسے ہی کام میں لگے ہیں جو آپ صحیح potential کے مطابق نہیں ہے تو ایک بار ضرور سوچیں کہ کہیں آپ بھی اس ڈال کاٹنے کی ضرورت تو نہیں جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہیں؟

▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬▬▬

اختر شیرانی کا عشق رسول

اختر شیرانی کا عشق رسول

اختر شیرانی اک بلانوش شرابی، محبت کا سخنور اور رومان کا تاجر تھا۔ لاہور کے ایک مشہور ہوٹل میں ایک دفعہ چند کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے رومانوی شاعر اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ وہ بلانوش تھے شراب کی دو بوتلیں وہ اپنے حلق میں انڈیل چکے تھے، ہوش و حواس کھو چکے تھے تمام بدن پر رعشہ طاری تھا حتی کہ دم گفتار الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زباں سے نکل رہے تھے۔
ادھر اختر شیرانی کی انا کا شروع ہی سے یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو مانتے نہیں تھے۔ نجانے کیا سوال زیر بحث تھا فرمایا ’’مسلمانوں میں اب تک تین شخص ایسے پیدا ہوئے ہیں جو ہر اعتبار سے جینیس (ذہن و فطین) بھی ہیں اور کامل فن بھی، پہلے ابوالفضل، دوسرے اسداللہ خان غالب، تیسرے ابوالکلام آزاد۔ ۔ شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے ہمعصر شعراء میں جو واقعی شاعر تھے انہیں بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔ کمیونسٹ نوجوانوں نے فیض کے بارے میں سوال کیا، طرح دے گئے۔ ۔ ۔ جوش کے متعلق پوچھا، کہا : وہ ناظم ہے۔ ۔ ۔ سردار جعفری کا نام لیا تو مسکرا دیئے۔ ۔ ۔فراق کا ذکر چھیڑا تو ہوں ہاں کر کے چپ ہو گئے۔ ۔ ۔ ساحر لدھیانوی کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا، فرمایا : مشق کرنے دو۔ ۔ ۔ظہیر کاشمیری کے بارے میں کہا : نام سنا ہے۔ ۔ ۔ احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا : میرا شاگرد ہے۔ ۔ ۔
نوجوانوں نے جب دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں تو بحث کا رخ پھیر دیا۔ کہنے لگے حضرت فلاں پیغمبر علیہ السلام کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آنکھیں مستی میں سرخ ہو رہی تھیں، نشے میں چور تھے، زباں پر قابو نہیں تھا لیکن چونک کر فرمایا : کیا بکتے ہو؟ ادب و انشاء یا شعر و شاعری کی بات کرو‘‘۔ ۔ ۔ اس پر کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا کہ اس کے مکالمات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے فرمایا اجی! یہ پوچھو کہ ہم کون ہیں؟ یہ ارسطو افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے۔ ہمیں ان سے کیا غرض کہ ہم ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔
ان کی لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے شہ پا کر ایک ظالم کمیونسٹ نے چبھتا ہوا سوال کیا آپ کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ۔ ۔؟
اللہ اللہ! نشے میں چور اک شرابی۔ ۔ ۔
جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اسکے سر پر دے مارا۔ ۔ ۔
بدبخت اک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ۔ ۔اک روسیاہ سے پوچھتا ہے۔ ۔ ۔اک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے۔ ۔ ۔؟ غصے سے تمام بدن کانپ رہا تھا، اچانک رونا شروع کر دیا حتی کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا؟ تمہیں جرات کیسے ہوئی؟ گستاخ! بے ادب "باخدا دیوانہ باش بامحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوشیار" اس شریر سوال پہ توبہ کرو میں تمہارے خبث باطن کو سمجھتا ہوں۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے۔
اس نوجوان کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے۔ اسے محفل سے نکال دیا پھر خود بھی اٹھ کر چل دیئے۔ ساری رات روتے رہے کہتے تھے ’’یہ لوگ اتنے بے باک ہو گئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں‘‘۔
رات کے تاریک سناٹوں کی پیداوار لوگ میکدوں میں سیرت خیرالبشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ نکتہ چیں.

(ماخوذ از مضامین شورش)

Contact Form

Name

Email *

Message *