Pages

Sunday, 19 February 2017

اختر شیرانی کا عشق رسول

اختر شیرانی کا عشق رسول

اختر شیرانی اک بلانوش شرابی، محبت کا سخنور اور رومان کا تاجر تھا۔ لاہور کے ایک مشہور ہوٹل میں ایک دفعہ چند کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے رومانوی شاعر اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ وہ بلانوش تھے شراب کی دو بوتلیں وہ اپنے حلق میں انڈیل چکے تھے، ہوش و حواس کھو چکے تھے تمام بدن پر رعشہ طاری تھا حتی کہ دم گفتار الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زباں سے نکل رہے تھے۔
ادھر اختر شیرانی کی انا کا شروع ہی سے یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو مانتے نہیں تھے۔ نجانے کیا سوال زیر بحث تھا فرمایا ’’مسلمانوں میں اب تک تین شخص ایسے پیدا ہوئے ہیں جو ہر اعتبار سے جینیس (ذہن و فطین) بھی ہیں اور کامل فن بھی، پہلے ابوالفضل، دوسرے اسداللہ خان غالب، تیسرے ابوالکلام آزاد۔ ۔ شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے ہمعصر شعراء میں جو واقعی شاعر تھے انہیں بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔ کمیونسٹ نوجوانوں نے فیض کے بارے میں سوال کیا، طرح دے گئے۔ ۔ ۔ جوش کے متعلق پوچھا، کہا : وہ ناظم ہے۔ ۔ ۔ سردار جعفری کا نام لیا تو مسکرا دیئے۔ ۔ ۔فراق کا ذکر چھیڑا تو ہوں ہاں کر کے چپ ہو گئے۔ ۔ ۔ ساحر لدھیانوی کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا، فرمایا : مشق کرنے دو۔ ۔ ۔ظہیر کاشمیری کے بارے میں کہا : نام سنا ہے۔ ۔ ۔ احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا : میرا شاگرد ہے۔ ۔ ۔
نوجوانوں نے جب دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں تو بحث کا رخ پھیر دیا۔ کہنے لگے حضرت فلاں پیغمبر علیہ السلام کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آنکھیں مستی میں سرخ ہو رہی تھیں، نشے میں چور تھے، زباں پر قابو نہیں تھا لیکن چونک کر فرمایا : کیا بکتے ہو؟ ادب و انشاء یا شعر و شاعری کی بات کرو‘‘۔ ۔ ۔ اس پر کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا کہ اس کے مکالمات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے فرمایا اجی! یہ پوچھو کہ ہم کون ہیں؟ یہ ارسطو افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے۔ ہمیں ان سے کیا غرض کہ ہم ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔
ان کی لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے شہ پا کر ایک ظالم کمیونسٹ نے چبھتا ہوا سوال کیا آپ کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ۔ ۔؟
اللہ اللہ! نشے میں چور اک شرابی۔ ۔ ۔
جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اسکے سر پر دے مارا۔ ۔ ۔
بدبخت اک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ۔ ۔اک روسیاہ سے پوچھتا ہے۔ ۔ ۔اک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے۔ ۔ ۔؟ غصے سے تمام بدن کانپ رہا تھا، اچانک رونا شروع کر دیا حتی کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا؟ تمہیں جرات کیسے ہوئی؟ گستاخ! بے ادب "باخدا دیوانہ باش بامحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوشیار" اس شریر سوال پہ توبہ کرو میں تمہارے خبث باطن کو سمجھتا ہوں۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے۔
اس نوجوان کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے۔ اسے محفل سے نکال دیا پھر خود بھی اٹھ کر چل دیئے۔ ساری رات روتے رہے کہتے تھے ’’یہ لوگ اتنے بے باک ہو گئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں‘‘۔
رات کے تاریک سناٹوں کی پیداوار لوگ میکدوں میں سیرت خیرالبشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ نکتہ چیں.

(ماخوذ از مضامین شورش)

Monday, 13 February 2017

ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﻮﻧﮕﺎ !

ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺪ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻃﻮﺍﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ تھے ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﮔﮯ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﺗﮭﯽ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ .
ﻭﮦ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﺭﮐﻦ ﯾﻤﺎﻧﯽ ﮐﯿﻄﺮﻑ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺩﻭﻋﺎﻟﻢ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ
ﻭﮦ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﺟﺲ ﺳﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ
ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﻼﺗﮯﮨﻮﺋﮯ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ ﭘﮍﮬﺘﮯ۔

ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﻧﮯ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﯿﻄﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ "ﺍﮮ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﮩﺮﮮ ﻭﺍﻟﮯ ! ﺍﮮ ﺣﺴﯿﻦ ﻗﺪ ﻭﺍﻟﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺷﻦ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺪﮦ ﻗﺪ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ" ۔۔۔۔
.
ﺳﯿﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ "ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ؟"
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯿﺴﮯ ﻻﺋﮯ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺑﻦ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻧﺒﻮﺕ ﻭ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﺎﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ۔
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ"۔

ﻭﮦ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﺳﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﺎ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺟﻮ ﻋﺠﻤﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺘﮑﺒﺮ ﻭﺟﺎﺑﺮ ﺑﻨﺎﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺸﯿﺮ ﻭ ﻧﺬﯾﺮ ﺑﻨﺎﮐﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔
ﮨﮯﺭﺍﻭﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺒﺮﯾﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺁﺋﮯﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻞ ﺟﻼﻟﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺍﺱ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ"۔
ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ ﮔﺎ؟
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﺎﮞ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮕﺎ۔
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮕﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﻮﻧﮕﺎ۔
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮐﮧ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮕﺎ 
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮕﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﻮﻧﮕﺎ، ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺨﺸﺶ۔ ۔ ۔ ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻧﮯﻣﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮕﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﻮﻧﮕﺎ۔ ۔ ۔ 
ﺍﮔﺮ ﺍﺳﻨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺨﻞ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﻮﻧﮕﺎ۔ ۔ ۔

ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺳﯿﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻤﯿﮧ ﺳﺐ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺭﯾﺶ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﭘﮭﺮ ﺟﺒﺮﯾﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺁﺋﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻼﻡ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﻧﺎ ﮐﻢ ﮐﺮﯾﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻧﮯ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﻭ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﺑﮭﻼﺩﯼ ﮨﮯﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﺩﯾﮟ ﯾﮧ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮨﻮﮔﺎ۔
           
ﮐﯿﺎﻋﻘﻞ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺍﻥ ﺧﺎﮎ ﻧﺸﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﮯ

ﮐﺘﺎﺏ : ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻤﺒﻞ۔

Sunday, 12 February 2017

ایک زمین : دو غزلیں

🏷ⓜⓣ                           🌹🌹

محسن نقوی کی غزل :

سایۂ  گُل سے بہر طَور جُدا ہو جانا
راس آیا نہ مجھے موجِ صبا ہو جانا

اپنا ہی جسم مجھے تیشۂ فرہاد لگا
میں نے چاہا تھا پہاڑوں کی صدا ہو جانا

موسمِ گُل کے تقاضوں سے بغاوت ٹھہرا
قفسِ غنچہ سے خوشبو کا رِہا ہو جانا

قصرِ آواز میں اک حشر جگا دیتا ہے
اُس حسیں شخص کا تصویر نما ہو جانا

راہ کی گرد سہی ، مائلِ پرواز تو ہُوں
مجھ کو آتا نہیں نقشِ کفِ پا ہو جانا

زندگی تیرے تبسّم کی وضاحت تو نہیں؟
موجِ طوفاں کا اُبھرتے ہی فنا ہو جانا

کیوں نہ اُس زخم کو میں پھول سے تعبیر کروں
جس کو آتا ہو ترا "بندِ قبا" ہو جانا

اشکِ کم گو ! تجھے لفظوں کی قبا گر نہ مِلے
میری پلکوں کی زباں سے ہی ادا ہو جانا

قتل گاہوں کی طرح سُرخ ہے رستوں کی جبیں
اک قیامت تھا مِرا آبلہ پا ہو جانا

پہلے دیکھو تو سہی اپنے کرم کی وسعت
پھر بڑے شوق سے تُم میرے خدا ہو جانا

بے طلب دَرد کی دولت سے نوازو مجھ کو
دل کی توہین ہے مرہونِ دُعا ہو جانا

میری آنکھوں کے سمندر میں اُترنے والے
کون جانے تِری قسمت میں ہے کیا ہو جانا!

کتنے خوابیدہ مناظر کو جگائے محسن!
جاگتی آنکھ کا پتھرایا ہُوا ہو جانا!

(بندِ قبا :  1969)

ا___________________________________

احمد فراز کی غزل :

بے نیازِ غمِ پیمانِ وفا ہو جانا
تم بھی اوروں کی طرح مجھ سے جدا ہو جانا

میں بھی پلکوں پہ سجا لوں گا لہو کی بوندیں
تم بھی پا بستۂ زنجیرِ حنا ہو جانا

گرچہ اب قرب کا امکاں ہے بہت کم پھر بھی
کہیں مل جائیں تو تصویر نما ہو جانا

صرف منزل کی طلب ہو تو کہاں ممکن ہے
دوسروں کے لیے خود آبلہ پا ہو جانا

خلق کی سنگ زنی میری خطاؤں کا صلہ
تم تو معصوم ہو تم دُور ذرا ہو جانا

اب مرے واسطے تریاق ہے الحاد کا زہر !
تم کسی اور پجاری کے خدا ہو جانا

( دردِ آشوب : 1966 )

  ─•═▤ 🌒 مــاہِ 🌙 تـمــام 🌘 ▤═•─
...✒اردو شاعری کے لئے معتبر گروپ🖋...
      ┏┅━┅━┅━┅━┅━┅━┅─╮
      ┇🌒MAHE🌙TAMAM🌘
      ┗┅━┅━┅━┅━─╮
         شمولیت کے لئے رابطہ کریں
            📲 09270021230
            

Contact Form

Name

Email *

Message *